یہ پیش رفت ہفتے کے روز استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہماری بات چیت میں پاکستان ترکیہ اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا، جس میں بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، رابطہ سازی، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی روابط پر توجہ مرکوز رہی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے اس مشترکہ یقین کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد پائیدار راستہ ہیں۔ میں نے صدر اردوان کی پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
It was a great pleasure and honour to meet my very dear brother, President Recep Tayyip Erdoğan, in the historic city of Istanbul today.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) July 4, 2026
Our discussions covered the full spectrum of the Pakistan–Türkiye Strategic Partnership, with particular focus on trade, investment, defence… pic.twitter.com/oLC4zqd3S7
انہوں نے کہا کہ ہم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اپنی شراکت داری کی بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے متفقہ ہدف کو حاصل کیا جائے اور پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور بلند سطح تک لے جایا جائے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ آج اس سے قبل میں نے پاکستان-ترکیہ بزنس کانفرنس میں شرکت کی، جہاں ترکیہ کی متحرک کاروباری برادری کے ممتاز نمائندوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کی مثبت سوچ، جدت پسندی اور کاروباری جذبے نے میرے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ صدر اردوان کی دور اندیش قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری ایک نئے اور امید افزا دور میں داخل ہو رہی ہے۔






