بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مجموعی ریونیو کا تخمینہ 20 ہزار 600 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 336 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت 8 ہزار 848 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے جبکہ دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے تنخواہ دار طبقے کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا بھی اعلان کیا ہے۔
بجٹ میں کاروباری شعبے کے لیے بھی اہم اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد اور کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تعمیراتی شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے جائیداد کی خریداری پر فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
آئی ٹی اور فری لانسنگ شعبے کے لیے بھی حکومت نے بڑی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس رجیم کی رعایت میں مزید تین سال کی توسیع کرتے ہوئے اسے 30 جون 2029 تک برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ غیر ملکی مالیاتی اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ خواتین کی صحت سے متعلق ضروری اشیا، خصوصاً سینیٹری پیڈز اور متعلقہ مصنوعات پر تمام ٹیکس ختم کر دیے جائیں گے۔
چھوٹے تاجروں کے لیے حکومت نے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اسکیم سالانہ 20 کروڑ روپے یا اس سے کم کاروباری حجم رکھنے والے تاجروں پر لاگو ہوگی۔ اس کے تحت تاجروں کو سالانہ فروخت کا صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
اسکیم کے تحت چھوٹے تاجروں کو پوائنٹ آف سیل مشین رکھنے سے استثنیٰ حاصل ہوگا، ان کا آڈٹ نہیں کیا جائے گا اور انہیں ایک خصوصی سبز تختی اور تصدیقی کیو آر کوڈ فراہم کیا جائے گا۔ مزید برآں ایف بی آر اہلکاروں کو پوچھ گچھ کے لیے ان کی دکانوں میں داخلے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
سماجی تحفظ کے شعبے میں حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ مستحق خاندانوں کے سہ ماہی وظائف میں اضافے کی تجویز بھی شامل ہے۔
بجٹ میں بزنس کلاس کے ذریعے غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ مراعاتی نظام برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت نے درآمدی الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے، تاہم وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں ان مراعات سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گی۔
مزید برآں صنعتی ترقی کے لیے 100 سے زائد اقسام کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق پنشن کی مد میں 1 ہزار 169 ارب روپے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1 ہزار 91 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بجٹ کا مقصد معاشی استحکام، برآمدات میں اضافہ، کاروباری سرگرمیوں کا فروغ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور عام شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔







