قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت پاکستان کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والا برآمدی شعبہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق آئی ٹی خدمات، فری لانسرز، سافٹ ویئر کمپنیوں اور ڈیجیٹل ایکسپورٹرز نے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ شعبہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 0.25 فیصد فائنل ٹیکس رجیم کی سہولت 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی تھی، تاہم حکومت نے اس رعایتی نظام کو مزید تین سال کے لیے بڑھا کر 30 جون 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی اور حکومت کی مالی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ آئی ٹی صنعت کی ترقی کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔

محمد اورنگزیب کے مطابق اس اقدام سے آئی ٹی برآمدات میں مزید اضافہ ہوگا، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملے گی اور نوجوانوں کے لیے فری لانسنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق ٹیکس رعایت میں توسیع سے پاکستان کے فری لانسرز اور آئی ٹی کمپنیوں کو طویل المدتی پالیسی استحکام ملے گا، جس سے عالمی مارکیٹ میں ان کی مسابقتی صلاحیت مزید بہتر ہو سکے گی۔