جمعہ کو وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد ایسے چھوٹے کاروباروں اور دکانوں کو ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے جن کی سالانہ آمدنی 2 کروڑ روپے تک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آسان اسکیم کے تحت کاروبار کی خالص آمدنی پر ایک فیصد مقررہ ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ دکاندار ایک سادہ فارم کے ذریعے، جو مختلف مقامی زبانوں میں دستیاب ہوگا، اس اسکیم میں رجسٹریشن کرا سکیں گے۔

وزیر خزانہ کے مطابق اسکیم میں شامل ہونے والے دکانداروں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے خصوصی تختیاں فراہم کی جائیں گی، جن پر ایک منفرد کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ اس کے علاوہ دکانوں میں پوائنٹ آف سیل نظام بھی نصب کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹوں کا دورہ کرنے والے ٹیکس انسپکٹرز کیو آر کوڈ کے ذریعے دکانوں کے ٹیکس ریکارڈ تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جبکہ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں مقامی تاجر تنظیموں سے مشاورت کے بعد آڈٹ کیا جائے گا۔

محمد اورنگزیب نے بتایا کہ نان فائلرز اور فائلرز دونوں اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم فائلرز کے لیے شرط ہوگی کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران ان کے کاروبار کا سالانہ ٹرن اوور 2 کروڑ روپے سے زیادہ نہ رہا ہو۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آسان اسکیم کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت ملے گی اور زیادہ سے زیادہ چھوٹے کاروباری افراد قومی ٹیکس نظام کا حصہ بن سکیں گے۔