قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بجٹ کو ایوان کے اندر اور باہر مجموعی طور پر مثبت ردعمل ملا ہے، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے دی گئی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بجٹ پر بحث کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے معیشت کے مختلف شعبوں سے متعلق اپنی آرا پیش کیں، بعض نکات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا، تاہم مجموعی طور پر یہ ایک ترقی پر مبنی بجٹ ہے جو ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کی سمت آگے لے جانے میں مدد دے گا۔

انہوں نے بجٹ تجاویز پر غور کرنے والے ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا اور قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین نوید قمر سمیت تمام ارکان نے اہم تجاویز پیش کیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں نے بجٹ دستاویز کا تفصیلی جائزہ لیا اور بہتری کے لیے سفارشات دیں، جن میں سے قابل عمل تجاویز کو فنانس بل 2026 کا حصہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

محمد اورنگزیب نے بجٹ میں شامل معاشی اعداد و شمار پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ، فی کس آمدنی اور دیگر معاشی اشاریوں کے تعین کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ معاشی اعداد و شمار کی تیاری بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کی جاتی ہے اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقہ کار میں عالمی معیار کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

وزیر خزانہ نے وضاحت کی کہ حقیقی جی ڈی پی گروتھ کا تعین مستقل قیمتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس میں معاشی سرگرمیوں اور قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے، جبکہ نومنل جی ڈی پی موجودہ مارکیٹ قیمتوں کے مطابق شمار کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فی کس آمدنی کے حساب کے لیے مجموعی قومی آمدنی، موجودہ قیمتوں اور آبادی کے سرکاری تخمینوں کو بنیاد بنایا جاتا ہے، جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر بھی مجموعی قومی آمدنی کا اہم حصہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں ملکی معیشت کا حجم 408.2 ارب ڈالر تھا، جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔

اپنی تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں پاکستان کے کردار کا بھی ذکر کیا۔

مزید پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ختم ہوتے ہی مہنگائی میں کمی آئے گی، وفاقی وزیر خزانہ

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امن سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو ملکی سفارتکاری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے قومی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور سفارتکاری کے راستے کو ترجیح دی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق اس سفارتی پیش رفت کے اثرات عوام تک بھی پہنچے اور حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی گئی، جس سے عوام کو ریلیف ملا۔

انہوں نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کی گئی، جو عوامی مشکلات میں کمی کے لیے اہم اقدام ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور اس کا مقصد معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں برآمدات، صنعتی ترقی، توانائی کے شعبے میں بہتری اور نجی شعبے کے کردار کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

محمد اورنگزیب نے امید ظاہر کی کہ بجٹ 2026-27 معاشی ترقی، مالی استحکام اور عوامی ریلیف کے اہداف حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔