کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کے ٹیکس نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور آسان بنایا جائے تاکہ کاروباری طبقے سمیت عام شہریوں کو بھی سہولت مل سکے، درمیانی مدت کی ٹیکس پالیسی تیاری کے مرحلے میں ہے، جسے متعلقہ شعبوں کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔
محمد اورنگزیب نے ملکی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور اس وقت ذخائر تقریباً ساڑھے 18 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں۔ عالمی مالیاتی مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی بڑھانے کے لیے پانڈا بانڈ کا اجرا بھی کیا گیا ہے، جو سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ادارہ جاتی اصلاحات آگے بڑھانے، پالیسی میں تسلسل یقینی بنانے اور سرمایہ کاری و پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے https://t.co/QGpk0DSn6C@Financegovpk#RadioPakistan #News pic.twitter.com/Z1pltURBeZ
— ریڈیوپاکستان (@PBCofficialNews) July 6, 2026
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی ترجیح معیشت کو دستاویزی بنانا، ٹیکس وصولیوں میں بہتری لانا اور عوام و کاروباری طبقے کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانا ہے،کرپشن کے خاتمے، شفافیت کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے معاشی نظام میں بہتری لانے پر کام جاری ہے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انویسٹ پاک پورٹل کا افتتاح بھی کیا، اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمل کو مزید آسان بنانا ہے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا کے ہر ملک کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کے روابط مضبوط ہوں، پاکستان بھی علاقائی اور عالمی سطح پر تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
این ایف سی ایوارڈ سے متعلق سوال پر محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس معاملے پر بات چیت جاری ہے اور صوبوں کے ساتھ تعاون کے شکر گزار ہیں، وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری سے معاشی اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی سہولیات میں اضافے کے لیے اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد جاری رکھے گی۔







