اور اس بار توجہ کا مرکز یہی سوال رہا  کہ  اس بجٹ میں عام آدمی کو واقعی کتنا ریلیف دیا گیا ہے اور اس کے عام عوام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

یہ بجٹ ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب حکومت ایک طرف آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری جانب عوام کو مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ سے کچھ ریلیف دینے کا دعویٰ بھی کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کیا دعوے کیے؟

بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان نے معاشی استحکام کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جب کہ فی کس آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہوگئی ہے۔

ترسیلات زر میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا اور رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران 38 ارب ڈالر موصول ہوئے، جب کہ سال کے اختتام تک یہ رقم 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 7.8 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد کے قریب آ گیا ہے جب کہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

بجٹ کا حجم کہاں خرچ ہوگا؟

بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ان میں سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کا ہے، جس کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دفاع کے لیے تقریباً 3 ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ سول حکومت کے اخراجات کے لیے 1071 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اسی طرح سبسڈیز کے لیے 1091 ارب روپے، پنشن کی ادائیگیوں کے لیے 1169 ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کی آمدن کا ایک بڑا حصہ اب بھی قرضوں کی ادائیگی اور جاری اخراجات پر خرچ ہو رہا ہے۔

تنخواہ دار طبقے کو سب سے بڑا ریلیف؟

بجٹ میں سب سے نمایاں ریلیف تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ہے۔ حکومت نے چار مختلف ٹیکس سلیبز میں شرح کم کرنے کی تجویز دی ہے۔

22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں کے لیے شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کر دی گئی ہے۔

41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد جب کہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدن پر شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم کم آمدنی والے طبقے کے لیے کوئی غیر معمولی ریلیف سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے ماہرین کا خیال ہے کہ اس بجٹ کا زیادہ فائدہ متوسط اور بالائی متوسط طبقے کو ہوگا۔

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو کیا ملا؟

حکومت نے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔ اسی طرح پنشنرز کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے مزید بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو کچھ ریلیف مل سکے۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ مزید وسیع

حکومت نے سماجی تحفظ کے پروگراموں پر بھی توجہ دی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پروگرام کا دائرہ بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔

اپنا گھر اسکیم؛ ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے بڑا اعلان

بجٹ میں وزیراعظم "اپنا گھر" اسکیم کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سستے گھروں کی تعمیر کے لیے آسان قرضے فراہم کیے جائیں گے جب کہ آئندہ برسوں میں ایک لاکھ 50 ہزار سستے رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

جائیداد کی خریدو فروخت کا معاملہ

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو متحرک کرنے کے لیے حکومت نے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا ہے۔

فائلرز کے لیے جائیداد خریدنے پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد جبکہ فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور درجنوں متعلقہ صنعتوں کو فائدہ پہنچے گا۔

کاروباری طبقے کے لیے کیا ریلیف آیا؟

حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

برآمدی شعبے کے لیے بھی ریلیف دیا گیا ہے اور ایکسپورٹ پر ایڈوانس انکم ٹیکس کم کیا گیا ہے۔ آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد کی رعایتی شرح کو مزید تین سال، یعنی جون 2029 تک توسیع دی گئی ہے۔

چھوٹے دکانداروں کے لیے نیا ٹیکس نظام

حکومت نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کے لیے ایک نیا فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس نظام کے تحت وہ دکاندار شامل ہوں گے جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے۔

انہیں اپنی سالانہ فروخت کا صرف ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا جبکہ انہیں معمول کے آڈٹ، پی او ایس مشین اور کئی دیگر پیچیدہ شرائط سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

خواتین اور صحت کے شعبے کے لیے اہم فیصلے

بجٹ میں خواتین کی صحت سے متعلق مصنوعات پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سینیٹری پیڈز سمیت متعدد ضروری اشیاء پر ٹیکس خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسی طرح خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کے لیے مانع حمل ادویات اور اشیاء پر بھی ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ کینسر سمیت مختلف بیماریوں کی ادویات کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے لیے کتنی رقم رکھی گئی؟

حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ صحت کے شعبے کے لیے 25 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں جن میں کینسر کے علاج کی سہولیات میں توسیع بھی شامل ہے۔

ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبے کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کراچی-چمن شاہراہ کے لیے 100 ارب روپے، سکھر-حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے جب کہ ایم ایل ون منصوبے کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کسانوں اور زرعی شعبے کے لیے کیا ہے؟

حکومت نے زرعی شعبے کے لیے خصوصی پروگراموں کا اعلان کیا ہے۔ چھوٹے کسانوں کو ڈیجیٹل ذرائع سے 300 ارب روپے تک کے قرضے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ زرعی پیداوار بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

ریلیف زیادہ یا بوجھ؟

اگر مجموعی تصویر دیکھی جائے تو بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے، جائیداد کے شعبے، آئی ٹی انڈسٹری، برآمد کنندگان، سرکاری ملازمین اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے کچھ اہم ریلیف موجود ہے۔

ان کے برعکس قرضوں پر سود کی بھاری ادائیگیاں، دفاعی اخراجات میں اضافہ، محدود ترقیاتی گنجائش اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنے کی حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت ابھی بھی مالیاتی دباؤ کا شکار ہے۔

اسی لیے یہ بجٹ مکمل طور پر عوام دوست یا مکمل طور پر سخت بجٹ نہیں بلکہ ایک ایسا بجٹ دکھائی دیتا ہے جو معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سوال اب یہ نہیں کہ بجٹ میں کیا اعلان کیا گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں ان اعلانات کا اثر عام پاکستانی کی جیب پر کتنا پڑتا ہے؟