اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے ٹیکس وصولیوں، بجٹ تجاویز، آئی ایم ایف پروگرام اور ملکی معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔ ان کے مطابق جس شہری کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار روپے یا اس سے کم ہے، اس پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا، جب کہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں پر صرف ایک فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا واضح مؤقف ہے کہ ٹیکس نہ دینے والوں کا بوجھ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ ٹیکس وصولیوں کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے نئے ٹربیونلز قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کا ماننا ہے کہ جب تک ٹیکس کلیکشن بہتر نہیں ہوگی، ملکی معیشت میں حقیقی بہتری ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل سست روی کا شکار تھا، بعض افسران کرپشن میں ملوث تھے اور کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر اب کسٹمز اور انکم ٹیکس کے کسی بھی افسر کی تعیناتی سفارش کی بنیاد پر نہیں ہوگی۔
جس کی تنخواہ 50 ہزار یا اس سے کم ہے وہ کوئی ٹیکس نہیں دے گا، عطا تارڑ کی بجٹ پر بریفنگ#ARYNews pic.twitter.com/gHhoYgH4md
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) June 17, 2026
عطا تارڑ کے مطابق ٹیکس کلیکشن کے عمل کا آغاز شوگر انڈسٹری سے کیا گیا ہے۔ ماضی میں شوگر ملز مالکان پیداوار کم ظاہر کرکے ٹیکس چوری کرتے تھے، تاہم اب مل سے نکلنے والی ہر چینی کی بوری پر بارکوڈ لگایا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سخت نگرانی کے نتیجے میں صرف شوگر ملز سے 60 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی تمباکو کی تجارت کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں اور مختلف ٹوبیکو کمپنیوں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔
سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خودکشی کر لیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، لیکن بعد میں وہ آئی ایم ایف پروگرام میں گئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں آئی ایم ایف سے نجات ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے حاصل کی ہے۔ ان کے بقول اگر پیرس میں وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات نہ کی ہوتی تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ موجودہ معاشی گنجائش اور عوامی ریلیف کے اقدامات بڑی محنت سے ممکن بنائے گئے ہیں، اور وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جیسے جیسے معیشت میں مزید گنجائش پیدا ہوگی، عوام کو مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا۔






