حال ہی میں کوہاٹ کے نشپا بلاک میں بارگزئی ون کنویں سے یومیہ 15 ہزار بیرل تیل کی پیداوار شروع ہونے کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے، جسے مستقبل میں 25 ہزار بیرل یومیہ تک بڑھانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم واقعی ان ذخائر سے مکمل فائدہ اٹھا پاتے ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں کہانی کا اصل پہلو سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں دریافت ہونے والا خام تیل عموماً ہیوی کروڈ کیٹیگری میں آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تیل ہلکے خام تیل کے مقابلے میں زیادہ گاڑھا اور پراسیسنگ کے لحاظ سے زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔

اسے قابلِ استعمال بنانے کے لیے جدید اور ہائی ٹیک ریفائننگ سسٹمز درکار ہوتے ہیں، جو نہ صرف مہنگے ہوتے ہیں بلکہ ان کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی بھی ضروری ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی زیادہ تر ریفائنریز پرانے ڈیزائن پر مبنی ہیں، جو اس ہیوی کروڈ کو مکمل طور پر ویلیو ایڈڈمصنوعات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامی طور پر نکالا جانے والا تیل زیادہ تر فرنس آئل یا کم معیار کے ایندھن میں تبدیل ہو جاتا ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل جیسے اعلیٰ معیار کے فیول کے لیے ہمیں اب بھی بیرونِ ملک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ہم تیل دریافت کرتے ہیں، لیکن اس سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔

اس مسئلے کا دوسرا اہم پہلو سرمایہ کاری اور پالیسی کا تسلسل ہے۔ جدید ریفائنریز کی تنصیب یا موجودہ ریفائنریز کی اپگریڈیشن کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز بھی اتنی ہی ضروری ہے اور وہ ہے  پالیسی میکنگ

پاکستان میں کئی بار ریفائنری اپگریڈیشن کے منصوبے زیرِ غور آئے، لیکن وہ مختلف وجوہات کی بنا پر عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔  کبھی پالیسی میں عدم تسلسل، کبھی سرمایہ کاروں کا عدم اعتماد، یہ سب عوامل اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔

تو کیا بارگزئی ون جیسے منصوبے بے فائدہ ہیں؟

ایسا ہرگز نہیں۔ یہ منصوبے یقیناً ملک کی مقامی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں، درآمدی دباؤ کو کچھ حد تک کم کرتے ہیں اور معیشت کے لیے مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن ان کے اثرات محدود رہتے ہیں، جب تک کہ پورے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپگریڈ نہ کیا جائے۔

اصل تبدیلی تب آئے گی جب پاکستان نہ صرف وسائل دریافت کرے بلکہ انہیں مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرے۔ اس کے لیے جدید ریفائننگ ٹیکنالوجی، طویل مدتی سرمایہ کاری، اور سب سے بڑھ کر ایک مستحکم اور واضح پالیسی فریم ورک ناگزیر ہے۔

ورنہ خطرہ یہی ہے کہ ہم خوشخبریاں سنتے رہیں گے اور  فائدہ حاصل نہیں کر پائیں گے۔

تحریر: فہد علی خان

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر