نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی ڈیجیٹل پر ڈائریکٹر ندیم بیگ کے ڈرامے "میں منٹو نہیں ہوں" میں ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر نے 2 خاندانوں کی دشمنی کے گرد کہانی کا تانا بانا بُنا ہے۔ انہوں نے اس دشمنی کا آغاز محبت کی شادی پر کیا ہے، جس سے دونوں گھرانوں میں قتل و غارت شروع ہو گئی تھی۔
پنجابی فلموں میں دکھائی جانے والی خاندانی دشمنیوں کا تعلق دیہی علاقوں سے ہوتا تھا لیکن ڈرامہ "میں منٹو نہیں ہوں" میں 2 شہری گھرانوں کے درمیان دشمنی کو بیان کیا گیا ہے ۔
شہر بے مثال کی دشمنیوں میں سے طیفی بٹ گروپ اور ٹیپو ٹرکان والا گروپ کی دشمنی بہت مشہور ہوئی۔ لاہور کے کشمیری برادری سے تعلق رکھنے والے دونوں گروپ بنیادی طور پر کاروباری لوگ ہیں بلکہ طیفی بٹ گروپ تو تاجر رہنماؤں پر مشتمل ہے۔
طیفی بٹ کے بڑے بھائی خواجہ اظہر گلشن تنظیم تاجران/تاجر قومی اتحاد اور خود خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ اکبری منڈی کے ربع صدی تک چیئرمین رہے بلکہ گوگی بٹ بھی کسی مارکیٹ کے چیئرمین ہیں۔ گوگی بٹ کا آبائی گھر گوالمنڈی میں ہے، جب کہ ٹرکاں والا گروپ کا علاقہ شاہ عالمی ہے، ٹرکاں والا گروپ پہلوان خاندان ہے، جن کی گاماں پہلوان کے خاندان سے بھی رشتہ داری ہے۔
طیفی بٹ گروپ اور ٹرکاں والا گروپ میں پہلے چودھراہٹ کے معاملے پر دوسرے لوگوں سے دشمنی جاری رہی تھی، ٹرکاں والا گروپ کے عمردین بٹ عرف نتھو پہلوان سب سے پہلے منشیات فروش کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے، بعد میں ان کے بیٹے امیر الدین عرف بلا پہلوان دشمنوں کے حملے میں مارے گئے تھے، جن کے قتل میں طیفی بٹ کا نام بھی لیا گیا تھا۔
پھر بلا پہلوان کا بیٹا عارف امیر عرف ٹیپو ٹرکاں والا لاہور ایئرپورٹ پر حملے میں شدید زخمی ہو کر میو ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا، کچھ عرصہ قبل اس کا ماموں زاد چاند پہلوان بھی قتل ہو گیا تھا۔ چند ماہ پہلے ٹیپو بٹ ٹرکاں والا کا بیٹا امیربالاج بھی قتل ہو گیا، جس میں طیفی بٹ اور اس کے پھوپھی زاد گوگی بٹ کو ملوث قرار دیا گیا۔
اسی دوران گوگی بٹ کا بہنوئی اعجاز بٹ بھی قتل ہو گیا تھا، جب کہ گوگی بٹ کا بھانجہ اور خواجہ ندیم سعید وائیں کا اکلوتا بیٹا نبیل وائیں ٹریفک کے پراسرار حادثے میں جاں بحق ہوگیا تھا۔ اب پولیس طیفی بٹ کو دبئی سے گرفتار کر کے وطن واپس لائی اور پولیس مقابلے کے دوران طیفی بٹ مارا گیا۔
ٹی وی ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر نے اے آر وائی ڈیجیٹل پر چلنے والے ڈرامے "میں منٹو نہیں ہوں" کا مرکزی خیال غالباً لاہور کے ان دونوں متحارب کشمیری گھرانوں کی دشمنی سے لیا ہے، البتہ اس میں گلیمر انہوں نے اپنی طرف سے ڈال دیا ہے۔
ڈرامے میں دونوں متحارب گروپوں کے سربراہوں کا کردار آصف رضا میر (سراج امرتسری) اور اداکار بابر علی (بنیامین ) ادا کر رہے ہیں، آصف رضا میر فلمی ہدایت کار رضا میر کے صاحبزادے ہیں، جن کا تعلق غالباً پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے کشمیری گھرانے سے تھا ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر بھی غالباً ڈسکہ کے علاقے سے ہی لاہور منتقل ہوئے تھے۔
اداکار ہمایوں سعید کے والدین بھی پنجاب سے کراچی منتقل ہوئے تھے، جب کہ اداکار بابر علی اور اداکار عثمان پیرزادہ کے خاندانوں کا تعلق پنجاب کے ضلع گجرات سے ہے۔ ڈرامے میں بنیامین کی بیوی کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ صبا حمید (خدیجہ) بھی لاہور کی رہنے والی ہیں اور بزرگ صحافی حمید اختر کی صاحبزادی ہیں۔
ڈرامہ "میں منٹو نہیں ہوں" میں دکھایا گیا ہے کہ دونوں گروپوں نے ایک دوسرے کے درجنوں بندے قتل کر رکھے ہیں۔ ڈرامے میں سراج امرتسری ( آصف رضا میر ) کی بیٹی محمل کا کردار اداکارہ سجل علی ادا کر رہی ہیں، جو حقیقی زندگی میں آصف رضا میر کی بہو رہ چکی ہیں۔
اداکارہ سجل علی کی آصف رضا میر کے صاحبزادے اداکار احد میر سے علیحدگی ہو گئی تھی، جب کہ بنیامین (اداکار بابر علی) کے بیٹے فرہاد کا کردار اداکار اذان سمیع خان کر رہے ہیں، جو گلوکار عدنان سمیع خان اور اداکارہ زیبا بختیار کے صاحبزادے ہیں، فرہاد بنیامین کی والدہ خدیجہ کا کردار اداکارہ صبا حمید، جب کہ محمل کی والدہ نصیبہ کا کردار صبا فیصل اور محمل کی پھپھو ثریا کا کردار اداکارہ صائمہ کر رہی ہیں۔ (جاری ہے)







