رات تقریباً 11:00 بجے وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اپنے ہی مقرر کردہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیاء الحق کو فون کیا۔

جنرل ضیاء نے روایتی عاجزی اور  سر، سر  کے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے بھٹو کو یقین دلایا کہ فوج آئین کی وفادار ہے اور سب کچھ قابو میں ہے، حالانکہ پسِ پردہ بغاوت کا جال بچھایا جا چکا تھا۔

ٹھیک رات 12:00 بجے جنرل ضیاء کے حکم پر کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی کی نگرانی میں  آپریشن فیئر پلے  کا آغاز ہوا، جس کے تحت فوج کے 111 ویں بریگیڈ نے اسلام آباد کے اہم راستوں، ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشنز کو اپنے حصار میں لے لیا۔

رات 2:00 بجے کے بعد بھاری فوجی گاڑیاں پی ایم ہاؤس میں داخل ہوئیں، وزیر اعظم بھٹو کو حراست میں لے کر مری منتقل کر دیا گیا اور 5 جولائی 1977ء کی صبح جنرل ضیاء نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں ملک میں تیسرے مارشل لاء کا اعلان کرتے ہوئے 90 دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کیا، جو بالآخر 11 سالہ طویل ترین آمریت میں تبدیل ہو گیا۔

جنرل ضیاء الحق کا یہ دور پاکستان کی سیاسی اور سماجی جڑوں کو مستقل طور پر تبدیل کر گیا۔ 4 اپریل 1979ء کو ایک انتہائی متنازع عدالتی فیصلے کے ذریعے ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی، جس نے ملک میں سیاسی انتقام اور ضابطے کی ایسی روایت قائم کی جس کا خمیازہ پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔

ضیاء الحق نے سیاسی جماعتوں کے وجود کو ختم کرنے اور ان کے اثر و رسوخ کو کچلنے کے لیے 1985ء میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے، جس کے نتیجے میں پاکستان سے نظریاتی syntax کا خاتمہ ہوا اور برادری ازم، دھن دولت اور خاندانی اثر و رسوخ کے کلچر نے جنم لیا۔

اسی دور میں افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے باعث ملک کے اندر اسلحہ کی ریل پیل اور منشیات کی وباء پھیلی، جسے محققین  کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر  کا نام دیتے ہیں اور اس نے روادار پاکستانی معاشرے کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک دیا۔

اگست 1988ء میں جنرل ضیاء کی طیارے کے حادثے میں موت کے بعد جمہوریت کی بحالی تو ہوئی، لیکن اقتدار کی اصل چابیاں سویلین حکمرانوں کو منتقل نہ ہو سکیں۔

1988ء سے 1999ء تک کی دہائی کو سیاسی محققین  کٹھ پتلی جمہوریت  کا دور کہتے ہیں، جہاں مقتدر حلقوں نے وزرائے اعظم کو اپنے اشاروں پر چلانے کے لیے صدارتی اختیارات کے آرٹیکل 58(2)b کا بے دریغ استعمال کیا۔

اس دوران محترمہ بے نظیر بھٹو (1988ء اور 1993ء) اور میاں نواز شریف (1990ء اور 1997ء) کی منتخب حکومتوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات کی بنیاد پر برطرف کر دیا گیا۔

ریسرچ اور عدالتی ریکارڈز (جیسے اصغر خان کیس) سے ثابت ہے کہ اس دور میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) جیسے مصنوعی سیاسی اتحاد بنا کر عوامی مینڈیٹ کو چوری کیا گیا، یہاں تک کہ 12 اکتوبر 1999ء کو کارگل تنازع کے بعد جنرل پرویز مشرف نے چوتھا مارشل لاء لگا کر ملک کو دوبارہ سویلین حکمرانی سے محروم کر دیا۔

سن 2006ء میں جلاوطنی کے دوران بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے ماضی کی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے لندن میں تاریخی  میثاقِ جمہوریت  (چارٹر آف ڈیموکریسی) پر دستخط کیے، جس کا مقصد ملک سے مستقل طور پر فوجی مداخلت کا خاتمہ کرنا تھا۔

اس چارٹر کے ثمرات 2008ء کے بعد نظر آئے جب پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی اور 2013ء میں اقتدار پرامن طور پر نون لیگ کو منتقل ہوا، جب کہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کو بھی یقینی بنایا گیا۔

حالیہ برسوں میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اپنے سیاسی کردار پر سنگین سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔ جو جماعت خود کو 1973ء کے آئین کی خالق اور محافظ کہتی ہے، اس نے حالیہ متنازع آئینی ترامیم کی منظوری میں مقتدر حلقوں کا بھرپور ساتھ دیا۔

بھٹو کے اصل وفاقی اور عوامی آئین کے بنیادی ڈھانچے کو عدلیہ اور دیگر اداروں پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے تبدیل کر دیا گیا، جس میں پی پی پی نے کلیدی مہرہ کا کام کیا۔

آج 5 جولائی 2026ء کو مارشل لاء کے 49 سال مکمل ہونے پر پاکستان کی جمہوریت ایک متبادل طرزِ حکومت کی لپیٹ میں ہے جسے ماہرینِ سیاسیات  ہائبرڈ نظام  کہتے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی آج ایک ایسی سویلین حکومت کے ساتھ اقتدار کے بینچوں پر کھڑی ہے، جس کے اپنے وزراء اور قریبی لوگ نجی محفلوں اور بیانات میں اعتراف کرتے ہیں کہ یہ حکومت مکمل طور پر ایک ہائبرڈ پلس ماڈل ہے اور اصل طاقت پسِ پردہ قوتوں کے پاس ہے۔

اس مفاداتی اتحاد نے میڈیا پر غیراعلانیہ سنسرشپ، شدید سیاسی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتہ کر کے عام آدمی کا ریاستی نظام پر سے اعتماد ختم کر دیا ہے، جس کے باعث جمہوریت صرف ایک نام نہاد لبادے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

اس طویل بحران کا واحد  حل یہ ہے کہ پاکستان میں آئین کی غیر مشروط بالادستی قائم کی جائے، جہاں فوج، عدلیہ اور پارلیمنٹ سمیت تمام ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کریں اور سیاست میں ہر قسم کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت کو جرم تسلیم کیا جائے۔

تمام بڑی سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو اقتدار کے لالچ اور ہائبرڈ نظام کی بیساکھیوں کو چھوڑ کر، ایک نئے  میثاقِ جمہوریت  کے تحت بیٹھنا ہوگا تاکہ سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی میں نہ بدلیں اور پارلیمنٹ ہی تمام قومی فیصلوں کا اصل مرکز بنے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت کو صرف انتخابی عمل یا مقتدر حلقوں کو خوش کرنے کے لیے آئینی جوڑ توڑ تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی فلاح سے جوڑا جائے؛ جب تک یہ نظام عام شہری کو سستی بجلی، تعلیم، صحت اور فوری انصاف فراہم نہیں کرے گا، تب تک سویلین بالادستی کا خواب ادھورا رہے گا۔

5 جولائی 1977ء کا سبق یہی ہے کہ آئین کو اپنے مقاصد کے لیے پامال کرنا یا بدلنا ملک کو پسماندگی کی طرف دھکیلتا ہے اور اب 2026ء میں پاکستان کو بقا کے لیے ایک شفاف، حقیقی اور جوابدہ جمہوری طرزِ عمل کی طرف لوٹنا ہی ہوگا۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر