جس طرح گزشتہ صدی میں صنعتی انقلاب نے عالمی طاقت کا توازن تبدیل کیا تھا، اسی طرح اکیسویں صدی میں مصنوعی ذہانت نئی عالمی قیادت اور ترقی کے پیمانے طے کر رہی ہے۔ ایسے میں چین کے شہرشنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن  کا قیام ایک غیر معمولی عالمی پیش رفت ہے، جس نے مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔

پاکستان اس نئی بین الحکومتی تنظیم کا بانی رکن بن گیا ہے۔ شنگھائی میں منعقدہ تقریب میں پاکستان سمیت 29 ممالک نے تنظیم کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے بھی اس تاریخی تقریب میں شرکت کی۔

پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے ساتھ ہی پاکستان اس عالمی تنظیم کے بانی اراکین میں شامل ہو گیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون، مؤثر عالمی حکمرانی اور بالخصوص گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے مساوی ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان دیگر رکن ممالک کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں موجود عالمی تفاوت کو کم کرنے، جدید ٹیکنالوجی تک منصفانہ رسائی کو فروغ دینے اور اس کے ثمرات کو زیادہ سے زیادہ ممالک تک پہنچانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے گا۔

چین کی قیادت میں قائم ہونے والی اس تنظیم میں زیادہ تر ممالک کا تعلق گلوبل ساؤتھ سے ہے، جن میں پاکستان، چین، روس، برازیل، انڈونیشیا، قازقستان، بیلاروس، سربیا، کیوبا، وینزویلا اور لاؤس سمیت 29 ممالک
شامل ہیں۔

گلوبل ساؤتھ دراصل کوئی جغرافیائی اصطلاح نہیں بلکہ ایک سیاسی و معاشی تصور ہے، جس سے مراد وہ ترقی پذیر ممالک ہیں جو تاریخی طور پر نوآبادیاتی اثرات، محدود وسائل اور کم آمدنی جیسے چیلنجز کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

اس کے برعکس گلوبل نارتھ میں امریکا، کینیڈا، یورپی ممالک، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک شامل ہیں۔ اگرچہ چین آج معاشی اور تکنیکی اعتبار سے دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، تاہم وہ خود کو مسلسل گلوبل ساؤتھ کا حصہ قرار دیتا ہے۔

معاہدے کے مطابق ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن ایک آزاد بین الحکومتی ادارہ ہوگی، جس کا مستقل ہیڈکوارٹر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔ تنظیم اقوام متحدہ کے منشور اور اصولوں کی روشنی میں رکن ممالک کے درمیان مشاورت، تعاون، مشترکہ مفاد اور انسان دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کو یقینی بنائے گی۔

16 جولائی کو معاہدے پر دستخط کی تقریب میں چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے چینی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر پاکستان، روس، انڈونیشیا، قازقستان، لاؤس سمیت دیگر ممالک کے نمائندوں نے بھی دستخط کیے اور یوں یہ تمام ممالک تنظیم کے بانی اراکین بن گئے۔ تنظیم کے قیام کے اگلے ہی روز شنگھائی میں عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جہاں چینی صدر شی جن پنگ نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے بے شمار مواقع لے کر آئی ہے، تاہم اس کے ساتھ عالمی سطح پر مؤثر حکمرانی اور ذمہ دارانہ استعمال بھی ناگزیر ہے۔

شی جن پنگ نے عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے لیے چار بنیادی اصول پیش کیے۔ ان کے مطابق کھلے پن اور باہمی تعاون کے ذریعے جدت کو فروغ دیا جائے، مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، مختلف تہذیبوں اور معاشروں کے درمیان تعاون اور شمولیت کو فروغ دیا جائے، جبکہ عالمی سطح پر ایسی حکمرانی تشکیل دی جائے جس میں خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو مساوی مواقع میسر ہوں اور نئی ٹیکنالوجی کسی نئی عالمی ناانصافی کا سبب نہ بنے۔

چینی صدر نے اعلان کیا کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران چین ترقی پذیر ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پانچ ہزار تربیتی مواقع فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ آسیان، عرب لیگ، افریقی یونین، لاطینی امریکا، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے رکن ممالک میں مصنوعی ذہانت کے تعاون کے مراکز بھی قائم کیے جائیں گے، جبکہ "مازو" نامی ذہین موسمیاتی ابتدائی وارننگ سسٹم کو 30 ممالک تک توسیع دی جائے گی۔

اس اجلاس سے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف، کمبوڈیا کے وزیراعظم ہن مانیٹ، تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم انوتن چارنویراکول اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خطاب کیا اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے فروغ کے لیے چین کے کردار کو سراہا۔پاکستان کے لیے اس تنظیم کی بانی رکنیت محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی موقع بھی ہے۔

مصنوعی ذہانت مستقبل کی عالمی معیشت، تحقیق، صنعت، دفاع، صحت، تعلیم اور انتظامی نظام کی بنیاد بننے جا رہی ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان اپنی قومی پالیسیوں، تعلیمی نظام، تحقیق، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی کو اس نئی حقیقت کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف چوتھے صنعتی انقلاب میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ عالمی مصنوعی ذہانت کی معیشت میں بھی ایک باوقار اور فعال شراکت دار کے طور پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔

شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کا قیام دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ مستقبل کی عالمی قیادت صرف اقتصادی یا عسکری قوت سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، اختراع اور ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی کی حکمرانی سے متعین ہوگی۔ پاکستان نے اس نئے عالمی سفر کے آغاز میں اپنی موجودگی ضرور درج کرا دی ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب یہ سفارتی پیش رفت قومی سطح پر مؤثر پالیسی سازی، جدید تعلیم، تحقیق، اختراع اور صنعتی ترقی میں ڈھل سکے۔

آنے والا دور انہی قوموں کا ہوگا جو مصنوعی ذہانت کو صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ قومی ترقی، اقتصادی خودمختاری اور عالمی اثرورسوخ کے بنیادی محرک کے طور پر اپنائیں گی۔ شنگھائی سے اٹھنے والی یہ نئی عالمی آواز پاکستان کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ مستقبل کا انتظار نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے بروقت حکمت عملی، مسلسل سرمایہ کاری اور علمی قیادت کے ذریعے تشکیل دیا جاتا ہے۔

تحریر: حسنین اولکھ

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری  نہیں۔ ایڈیٹر