14دسمبر بروز اتوار آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے میں حملہ آور سمیت مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک، جب کہ 40 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

اس دہشت گردانہ واقعے کے بعد فیک نیوز کا بازار گرم ہو گیا، خاص طور پر انڈین میڈیا کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے اس واقعے کو زبردستی پاکستان سے جوڑنا شروع کر دیا گیا۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ہزاروں کی تعداد میں جعلی ٹوئٹس کی بھرمار ہو گئی اور اس میں شدت اس وقت آئی جب آسٹریلوی حکام نے ایک حملہ آور کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا نام نوید اکرم ہے۔ پھر کیا تھا، آگ تو ویسے ہی جل رہی تھی اور انڈین میڈیا کی بانچھیں کھل گئیں۔

انڈین میڈیا نے روایتی جلدی بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں تک بتا دیا کہ حملہ آور لاہور کا رہائشی ہے اور اُس نے ہمدرد یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ اس دوران حملہ آور کی تصویر تو شیئر ہو ہی رہی تھی، مگر ساتھ ہی ایک اور تصویر بھی پھیلائی جا رہی تھی جسے حملہ آور قرار دیا گیا، حالانکہ وہ پاکستان کے نوید اکرم کی تصویر تھی جو سڈنی ہی میں مقیم تھے۔

بعد ازاں نوید اکرم نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے اپیل کی کہ انہیں اس حملے سے نہ جوڑا جائے کیونکہ اس سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، لیکن یہ سب سامنے آنے کے باوجود انڈین میڈیا نے معذرت کرنے کے بجائے معاملے کو مسلم انتہا پسندی کا رنگ دینا شروع کر دیا۔

انڈین میڈیا نے پاکستان اور مسلمانوں کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، لیکن جب حملہ آور کے ساتھی کا بیان سامنے آیا کہ نوید اکرم کے والد ساجد انڈین اور والدہ اٹلی سے تعلق رکھتی ہیں تو انڈین میڈیا کو سانپ سونگھ گیا، کیونکہ اب الزام الٹا پڑ رہا تھا۔

اب منگل کے روز اس بحث میں اس وقت نیا موڑ آیا جب منیلا میں آسٹیریلوی حکام نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ 50 سالہ حملہ آور ساجد اکرم نے حال ہی  میں انڈین  پاسپورٹ پر، جب کہ ان کے بیٹے نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا۔

اسی روز ایک پریس کانفرنس میں نیو ساؤتھ ویلز کے پولیس کمشنر میل لیون نے دونوں افراد کے فلپائن کے سفر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس دورے کے مقصد اور فلپائن میں قیام کے دوران مقامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

سڈنی میں ایک اور پریس کانفرنس کے دوران آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ بونڈائی بیچ پر حملہ آور شخص کا تعلق کس ملک سے تھا۔

صحافی نے پوچھا کہ وزیر داخلہ کے مطابق ساجد اکرم طالب علم ویزا پر آسٹریلیا آئے تھے، تو کیا یہ بتایا جا سکتا ہے کہ ان کا تعلق انڈیاسے تھا یا پاکستان سے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ انڈیا کو اس واقعے پر افسوس کے بجائے اسے پاکستان سے جوڑنے میں زیادہ دلچسپی نظر آ رہی تھی۔

اس پر انتھونی البانیز نے جواب دیا کہ یہ تمام امور تحقیقات کا حصہ ہیں اور ان کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں کیونکہ اس سے تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔

آسٹریلوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم نے انڈین پاسپورٹ اور نوید اکرم نے آسٹریلوی پاسپورٹ پر فلپائن کا سفر کیا تھا، تاہم تاحال اس دورے کے مقصد کا تعین نہیں ہو سکا۔

اسی پریس کانفرنس میں آسٹریلوی وفاقی پولیس کی کمشنر کریسی بیرٹ نے کہا کہ کمیونٹی کا جواب طلب کرنا فطری ہے اور یہ ضروری ہے کہ درست معلومات فراہم کی جائیں تاکہ متنوع آسٹریلیا میں تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور گمراہ کن معلومات کی بنیاد پر انتقامی کارروائیوں سے بچا جا سکے۔

اب جب آسٹریلوی حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ ساجد اکرم نے انڈین پاسپورٹ پر سفر کیا، تو یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اس کا تعلق پاکستان سے نہیں بلکہ انڈیا سے تھا، کیونکہ اگر وہ پاکستانی ہوتا تو پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرتا۔

انڈین میڈیا ہی کے مطابق ساجد اکرم 1998 میں انڈیا سے آسٹریلیا منتقل ہوا۔ انڈین ادارے دی پرنٹ کی رپورٹ میں بھی تصدیق کی گئی کہ ساجد اکرم کا تعلق حیدرآباد، تلنگانہ سے ہے، لہٰذا اس کے پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

پرنٹ کے مطابق آسٹریلوی حکام نےانڈیا سے تفصیلات طلب کیں، جن میں پاکستان سے کسی تعلق کا ذکر نہیں۔

انڈین میڈیا ہی کے مطابق آسٹریلوی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے نوید اکرم اور اس کے والد ساجد اکرم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انڈین  حکام سے رابطہ کیا ہے، جس کے بعد ہر طرف خاموشی چھا گئی، تاہم پاکستانیوں کی جانب سے جوابی کارروائی شروع ہو گئی۔

اس پیش رفت پر صحافی کامران یوسف نے لکھا کہ اب انڈیاکی خواہش ہوگی کہ 2025 جلد ختم ہو جائے کیونکہ یہ سال اس کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ سڈنی حملے کے بعد پاکستان پر الزام لگانے کی کوشش کی گئی لیکن حقائق کچھ اور نکلے۔صحافی عمر چیمہ نے لکھا کہ یہ ہمارے لیے اچھی خبر ہے کہ حملہ آور پاکستان سے نہیں نکلا، جب کہ انڈین مسلمانوں کے لیے بری خبر ہے۔

سماجی کارکن جلیلہ حیدر نے لکھا کہ انڈین ساتھیوں کو الزام تراشی کے بجائے حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آیاانڈیا خود انتہا پسند گروہوں کی بھرتی کے خطرے سے دوچار تو نہیں۔غلط معلومات کے ذریعے پاکستان یا کسی اور ملک کو مورد الزام ٹھہرانے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو گی کہ انتہا پسند گروہانڈین سرزمین میں بھی موجود ہیں۔

یوں جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی انڈین کوشش بے نقاب ہو گئی۔ بونڈائی بیچ واقعہ ایک بار پھر انڈین میڈیا کے فالس فلیگ بیانیے کو بے نقاب کر گیا اور پاکستان کے خلاف گھڑا گیا جھوٹا بیانیہ خود انڈین میڈیا کی رپورٹنگ سے زمین بوس ہو گیا۔

واضح رہے کہ انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے جھوٹی تصاویر اور بے بنیاد الزامات پھیلا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی گئی۔اس افسوسناک سانحے کو سیاسی مقاصد اور پروپیگنڈا جنگ میں تبدیل کرنا ہر صورت قابل مذمت ہے۔

پاکستان کو نشانہ بنانے کی اس منظم سازش نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ حقائق کو مسخ کر کے نفرت اور انتشار پھیلانا بعض حلقوں کا مستقل وطیرہ بن چکا ہے، کیونکہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جب انڈین میڈیا نے اس طرح کا روایہ اختیار کر کے حقائق کو موڑا ہو، ہم سب اس کا عملی مظاہرہ پہلگام واقعے کے بعد دیکھ چکے ہیں، جہاں ابھی حملہ ہوا ہی تھا کہ انڈین میڈیا کو پتہ چل گیا کہ یہ سب پاکستان نے کیا ہے۔

انڈین میڈیا نہ تو پہلگام اور نہ ہی سڈنی واقعے کے کوئی ٹھوس ثبوت آج تک دنیا کے سامنے لا سکا، مگر ایک بات دنیا نے واضح طور پر دیکھ لی ہے کہ انڈیا جو کچھ بھی کرتا ہے وہ پاکستان دشمنی میں کرتا ہے اور اب اس کا خمیازہ بھی بھگت رہا ہے۔