لیکن گزشتہ چند برسوں کے معاشی اشاریے اور خصوصاً سال 2026 کے ابتدائی رجحانات یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان کا روایتی "قربانی کا ماڈل" اب شدید ترین معاشی دباؤ کے تحت اپنی ہائبرڈ شکل اختیار کر رہا ہے۔

اس تبدیلی کا سرا سال 2022 کے تباہ کن سیلاب اور اس کے بعد ملک میں آنے والے شدید ترین افراطِ زر (Inflation) سے جڑتا ہے۔ جب پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور بنیادی خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، تو اس کا براہِ راست اثر جانوروں کے چارے، کھل، ٹرانسپورٹیشن اور ویٹرنری ادویات پر پڑا۔ جانور پالنے کی لاگت (Cost of Farming) میں اس غیر معمولی اضافے نے منڈیوں میں بکرے اور گائے کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دیا۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن (PTA) اور مارکیٹ کے تاریخی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2020 سے 2023 تک ملک میں قربان ہونے والے جانوروں کی تعداد 70 سے 80 لاکھ (7 سے 8 ملین) کے درمیان مستحکم تھی، مگر 2024 میں یہ گراف پہلی بار واضح طور پر نیچے گرا اور یہ تعداد سکڑ کر تقریباً 67.5 سے 68 لاکھ تک آ گئی۔

سال 2025 کے سیزن میں کاروباری سرگرمیوں کا حجم اگرچہ کچھ تخمینوں کے مطابق 69.7 سے 74 لاکھ جانوروں کے درمیان رہا، لیکن اس کے پیچھے کی حقیقت زیادہ خوفناک ہے۔ رپورٹس کے مطابق، جانوروں کی فروخت کی مجموعی مالیت میں تقریباً 500 ارب روپے کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ منڈیوں میں سپلائی یعنی جانوروں کی آمد تو موجود تھی، لیکن گاہک غائب تھے۔ سال 2026 کے موجودہ حالات بھی اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کر رہے ہیں، جہاں متوسط طبقے کی آمدن منجمد ہے اور مہنگائی کی شرح نے ان کی بچتیں نگل لی ہیں، وہاں انفرادی قربانی سب کے بس کی بات نہیں رہی، 

مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانیوں نے قربانی کرنا چھوڑ دی ہے؟ دیکھا جائے تو جواب "نہ" میں ہے۔ یہاں ایک بڑا (Structural Shift) سامنے آیا ہے۔ سفید پوش اور متوسط طبقے نے مہنگے بکرے یا پوری گائے خریدنے کے بجائے "اجتماعی قربانی" کا رخ کر لیا ہے۔ لوگ اب بڑے جانور میں حصوں کو ترجیح دے رہے ہیں، فلاحی اداروں کے نیٹ ورکس پر اعتماد بڑھ رہا ہے اور شہری علاقوں میں آن لائن قربانی کے رجحان میں تیزی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انفرادی جانوروں کی خریداری میں تو بڑی کمی آئی ہے، لیکن حصوں کی شکل میں قربانی کرنے والے خاندانوں کا گراف اب بھی کسی حد تک توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔

عیدالاضحیٰ کی اس بدلتی معیشت کے اثرات ملک کی دوسری بڑی برآمدی صنعت، یعنی لیدر انڈسٹری (چمڑے کی صنعت) پر بھی گہرے ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے ٹینرز اپنی سالانہ خام مال کی ضرورت کا ایک بڑا حصہ عید کے ان تین دنوں میں حاصل ہونے والی کھالوں سے پورا کرتے ہیں۔ معاشی دباؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2024 میں عید پر حاصل ہونے والی کھالوں کی مالیت تقریباً 8.5 ارب روپے تھی، جو 2025 میں معاشی اتار چڑھاؤ اور جانوروں کے حجم میں تبدیلی کے باعث سکڑ کر 6.3 سے 7.5 ارب روپے کے درمیان رہ گئی۔ یہ گراوٹ ظاہر کرتی ہے کہ جب قربانی کا سائز متاثر ہوتا ہے، تو اس کا خمیازہ ملک کی انڈسٹری اور ایکسپورٹ سیکٹر کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔

اگرچہ بعض معاشی تخمینوں کے مطابق عیدالاضحیٰ سے وابستہ مجموعی کاروباری سرگرمی (بشمول مویشی، قصائی، ٹرانسپورٹ، اور مزدوری) اب بھی 1.3 ٹریلین (1300 ارب) روپے کی خطیر رقم کے گرد گھومتی ہے، مگر اس رقم کی حقیقی قوتِ خرید اب وہ نہیں رہی جو چند سال پہلے تھی۔ سال 2026 کا یہ سیزن لائیو اسٹاک فارمرز اور پاکستان کے متوسط طبقے، دونوں کے لیے بقا کا سیزن تھا۔ منڈیاں سجی، بیوپاری پرامید تھے، لیکن افراطِ زر کا یہ بے رحم پہیہ اگر اسی رفتار سے چلتا رہا، تو آنے والے برسوں میں عیدِ قربان کی یہ موسمی معیشت مزید سکڑنے کا خدشہ ہے، جو نہ صرف دیہی لائف اسٹاک بلکہ ملکی صنعت کے لیے بھی ایک بڑا معاشی چیلنج ہوگا۔

تحریر: عاصم ارشاد 

بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر