یہی سوال حالیہ دنوں جامعہ پنجاب میں فیسوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد ایک بار پھر شدت سے سامنے آیا۔
جامعہ پنجاب کے طلبہ نے فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ طالب علم رہنما عبداللہ عباس بھی اس احتجاج میں پیش پیش تھے اور بعد ازاں ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آئی۔ یہ واقعہ قومی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا، مگر سوشل میڈیا پر وہ عوامی ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا جو دنیا کے دیگر ممالک میں طلبہ احتجاجوں کے دوران معمول بن چکا ہے۔
نہ یہ معاملہ قومی بحث کا موضوع بنا، نہ نوجوانوں کی وسیع اکثریت اس پر متحرک دکھائی دی۔ اس خاموشی نے ایک بڑے سوال کو جنم دیا کہ کیا پاکستان کی جین زی واقعی غیر سیاسی ہو چکی ہے یا اس کے اظہار کے راستے محدود ہو گئے ہیں؟
گزشتہ چند برسوں میں بنگلہ دیش، نیپال اور انڈیا میں نوجوانوں نے مختلف قومی معاملات پر اپنی موجودگی بھرپور انداز میں منوائی۔ کہیں تعلیمی اصلاحات کے لیے تحریک اٹھی، کہیں روزگار اور شفاف انتخابات کے مطالبات سامنے آئے اور کہیں اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے احتجاج ہوا۔
ان تحریکوں سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ، مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ نوجوان وہاں قومی مباحثے کا اہم حصہ بنے۔
پاکستان میں بھی نوجوانوں میں سیاسی شعور موجود ہے۔ بلوچستان کے مسائل ہوں، جبری گمشدگیوں کا معاملہ ہو، معاشی بحران، بے روزگاری یا کسی سیاسی جماعت کا احتجاج، نوجوان ان موضوعات پر گفتگو ضرور کرتے ہیں۔ لیکن یہ آواز اکثر منتشر رہتی ہے۔
کہیں ایک مسئلہ دوسرے پر غالب آ جاتا ہے اور کہیں اظہار کا دائرہ چند سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً قومی سطح کی طلبہ تحریک تشکیل نہیں پا پاتی۔
اس صورتحال کی ایک اہم وجہ طلبہ یونینز پر طویل عرصے سے عائد پابندی بھی ہے۔ اس پابندی کے پس منظر اور اس کے حق میں دلائل موجود ہیں، مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ اس کے بعد جامعات میں منظم طلبہ نمائندگی کا نظام کمزور ہوا۔
دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں جامعات کو قیادت سازی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمان، عدلیہ، صحافت، بیوروکریسی اور سماجی قیادت میں آنے والے بے شمار افراد نے اپنی تربیت طلبہ سیاست سے حاصل کی۔ پاکستان بھی اس روایت سے محروم نہیں تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ سلسلہ تقریباً ختم ہوتا چلا گیا۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر طلبہ احتجاج درست یا ہر ریاستی اقدام غلط ہوتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری امن و امان برقرار رکھنا اور قانون نافذ کرنا ہے، جب کہ طلبہ کی ذمہ داری پرامن اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کرنا ہے۔ لیکن کسی بھی جمہوری معاشرے میں مکالمہ، برداشت اور اختلافِ رائے کے لیے جگہ باقی رہنی چاہیے۔
جب مکالمے کے دروازے تنگ ہو جائیں تو فاصلے بڑھتے ہیں، اور جب نوجوانوں کو اپنی بات مؤثر انداز میں کہنے کا موقع نہ ملے تو بے اعتمادی جنم لیتی ہے۔
آج کی جین زی ڈیجیٹل دنیا میں پروان چڑھی ہے۔ یہ نسل معلومات تک فوری رسائی رکھتی ہے، عالمی سیاست سے باخبر ہے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوال بھی کرتی ہے۔ اس نسل کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو محض سوشل میڈیا صارف نہیں بلکہ قومی مستقبل کے شراکت دار سمجھا جائے۔ انہیں ایسا ماحول دیا جائے جہاں وہ دلیل، تحقیق اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے اپنی رائے پیش کر سکیں۔
پاکستان میں طلبہ سیاست کے بارے میں ایک نئے قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔ اگر ماضی کے تلخ تجربات موجود ہیں تو ان سے سبق سیکھتے ہوئے ایسا ضابطۂ اخلاق ترتیب دیا جا سکتا ہے جس میں تشدد، اسلحہ، نفرت اور لسانی یا فرقہ وارانہ سیاست کی کوئی گنجائش نہ ہو، جب کہ جمہوری نمائندگی، تعلیمی مسائل اور طلبہ کے جائز حقوق کے لیے منظم اور پرامن جدوجہد کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے، سوال سننے اور مکالمے کو فروغ دینے کا نام بھی ہے۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے نوجوانوں کی آواز سننے کا حوصلہ رکھتی ہو۔
اگر پاکستان واقعی اپنے نوجوانوں کو قومی ترقی کا سرمایہ سمجھتا ہے تو اسے جامعات میں اعتماد، مکالمے اور جمہوری شرکت کی نئی فضا قائم کرنا ہوگی۔
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ سوال صرف یہ نہ پوچھیں کہ پاکستان کی جین زی کہاں کھڑی ہے؟بلکہ یہ بھی سوچیں کہ ہم نے اس نسل کو کھڑے ہونے کے لیے کتنی جگہ دی ہے؟







