صرف انتظامی تقسیم کی یا اس کے پیچھے وہی پرانی بحث ہے، جو پاکستان ستر سال سے کرتا آیا ہے۔

پارلیمانی نظام بمقابلہ صدارتی یا مرکزی اختیارات والا نظام؟

اس ساری کہانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں پاکستان بننے سے اب تک کے نظام کو ایک نظر دیکھنا ہو گا۔ 

پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے 1956 میں ایک وفاقی پارلیمانی آئین منظور کیا۔ مگر یہ آئین اڑھائی سال بھی نہ چل سکا۔ اکتوبر 1958 میں گورنر جنرل اسکندر مرزا نے فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان کے ساتھ مل کر پہلا مارشل لا لگا دیا، اور پارلیمانی نظام کا پہلا تجربہ ختم ہو گیا۔

اس کے بعد سیاسی جماعتوں نے 1956 کے آئین کی بحالی کا مطالبہ کیا، مگر ایوب خان نے اسکندر مرزا کو ہٹا کر خود اقتدار سنبھال لیا اور 1962 میں پاکستان پر صدارتی نظام مسلط کر دیا۔

1965 میں صدارتی الیکشن ہوا جس میں محترمہ فاطمہ جناح اپوزیشن کی متفقہ امیدوار تھیں۔ وہ پارلیمانی نظام کی حامی تھیں، اسی لیے انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دے دیا گیا۔ مشرقی پاکستان سے لے کر بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب تک ہر بڑی سیاسی قیادت ان کے ساتھ تھی، مگر دھاندلی کے ذریعے انہیں ہرا دیا گیا۔ صدارتی نظام جیت گیا، پارلیمانی نظام ہار گیا۔ 1969 میں ایوب خان کے اپنے لائے ہوئے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان نے انہیں ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

اس کے بعد باری آتی ہے اس صدارتی نظام کی  جس نے ملک توڑ دیا۔ 1970 کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو واضح اکثریت ملی۔ مگر اقتدار منتقل کرنے کے بجائے فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا۔ جو بعد میں خانہ جنگی اور پھر پاک بھارت جنگ میں بدل گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک دو لخت ہو گیا۔ یہ صدارتی نظام کی سب سے بھاری قیمت تھی۔

اسی نظام کی دوسری کوشش 1973 میں ایک بار پھر کی گئی۔ نئے پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر 1973 کا متفقہ آئین بنایا اور ملک ایک بار پھر وفاقی پارلیمانی نظام کے سپرد ہوا۔ مگر یہاں بھی مسئلہ برقرار رہا، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی مخلوط یعنی کمبائنڈ صوبائی حکومتوں کو ایک سال بھی نہ چلنے دیا گیا، نیپ پر پابندی لگا کر قیادت جیل بھیج دی گئی۔ آئین کاغذ پر پارلیمانی رہا، مگر عملدرآمد ایماندارانہ نہ ہو سکا۔

نتیجہ 1977 کا مارشل لا۔

تیسرا صدارتی تجربہ اور گیارہ سال کا اقتدار!

جنرل ضیاء الحق نے گیارہ سال تک ملک کو صدارتی طرز پر چلایا اور 1985 میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے ایسا نظام متعارف کروا دیا جس میں صدر کے پاس وزیرِ اعظم سے زیادہ اختیارات تھے۔ اسی ترمیم کے زیرِ اثر اگلے تیرہ برسوں میں چار منتخب وزرائے اعظم جس میں ایک بار جونیجو، اور دو بار بے نظیر بھٹو اور ایک بار نواز شریف کو صدر نے برطرف کیا۔

ہر بار الزام وہی تھا 'کرپشن اور بری گورننس'

چوتھا صدارتی تجربہ جنرل پرویز مشرف نے کیا۔

1999میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور نو سال تک اختیارات اپنے پاس رکھے۔ 2008 میں ان کا اقتدار ختم ہوا تو 18ویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات دوبارہ پارلیمنٹ اور وزیرِ اعظم کو منتقل کیے گئے۔

یہ وہ وعدہ تھا جو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاقِ جمہوریت میں کیا تھا۔

پارلیمانی نظام واپس تو ایا مگر مسئلے ختم نا ہوئے۔ 18ویں ترمیم کے بعد بھی نکلنے نکالنے کا نظام چلتا رہا۔ 2012 میں عدالت کے ذریعے وزیرِ اعظم یوسف رضا گلانی نااہل ہوئے، 2017 میں نواز شریف نااہل ہوئے۔

پچھلے ستر سال میں پاکستان نے چار بار صدارتی یا ایک جگہ پر مرکوز اختیار والا نظام آزمایا۔

مگر ہر بار وہ ایک مارشل لا، ایک بحران، یا ملک کے ٹوٹنے پر ختم ہوا۔

ہر بار دلیل یہی دی گئی کہ پرانا نظام ناکام ہو چکا اور اب نیا لانا ہوگا۔ ہر بار جواب مرکزیت اور اختیارات کی تقسیم کے بجائے ان کی مزید تقسیم روکنے میں تلاش کیا گیا۔

اب جب 'سسٹم ری سیٹ' اور 'نئے انتظامی یونٹس' کی بات ہو رہی ہے تو کیا یہ صرف انتظامی بہتری کی بات ہے؟

یا وہی پرانا رجحان دوبارہ سر اٹھا رہا ہے؟

 1973 کا آئین دو بار توڑا گیا، دوںوں بار بحال ہوا، یہ واحد دستاویز ہے جس پر پوری قوم کا اتفاق ہے۔

اس بار کا نیا نظام کیسا ہو گا یہ تو ںظام کے نفاظ کے بعد ہی پتا چلے گا۔

لیکن کیا پاکستان ایک اور تجربے کو برداشت کرنے کی سکت رکھتا ہے، یا اصل حل 1973 کے آئین پر ایمانداری سے عمل درآمد میں ہے جس پر پوری قوم کا اتفاق ہے؟

تحریر: حامد لال

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر