مجھے اس پوسٹ سے پتا چلا کہ بخاری صاحب اسی منزل کے مسافر ہیں جس کے لیے آج سے کئی سال قبل ہم نے بھی سفر شروع کیا تھا۔

 آج سے ٹھیک 15 سال قبل میں ایمرسن کالج ملتان کا طالب علم تھا۔ ہم نے جولائی میں میٹرک کے نتائج کے بعد نئے آنیوالے طلبہ کی رہنمائی کیلئے کیمپ لگایا ہوا تھا۔ یہ تین روزہ کیمپ تھا پہلے دن ہم نے سینکڑوں طلباء کی رہنمائی کی ان کو مفت سٹیشنری، داخلہ فارمز کی سہولت بھی دی تھی،دوسرے دن بھی ہم اسی کام میں مصروف تھے کہ اچانک 15سے20نو جوان جن کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور کچھ کے ہاتھوں پستول بھی تھے ہم پر حملہ آور ہو گئے۔ فائرنگ کے بعد جب ہم ڈٹے رہے تو موصوف کی انہوں نے خوب دھلائی کی،سر میں کرسیاں لگنے سے میں زخمی ہوگیا، مجھے ساتھ کھڑا نوجون اٹھا کر ہسپتال لے گیا جہاں سر میں ڈاکٹرز نے ٹانکے لگائے۔

 ہوش آیا تو پتا چلا کہ اس جرم کی سزا میرے ساتھ موجود جواد بھٹہ کو بھی ملی ہے،جواد ایک نڈر نوجوان تھا جو دوستی کو جان پر فوقیت دیتا تھا اور اس نے ثابت بھی کیا، باقی ساتھی شاید میدان جنگ سے بھاگ چکے تھے ،یہ حملہ ہم پرپیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن کی طرف سے کیا گیا تھا جس کی سربراہی سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے ہاتھ میں تھی اور تحریک انصاف کے موجودہ ایم این اے عامر ڈوگر ان کو اسلحہ فراہم کرتے تھے۔

جمعیت والے فطرت میں ڈھیٹ تو ہیں ہی مار کھانے کے بعد بھی نہیں سیکھتے۔ مار کے بعد تو پکے جماعتیے بن جاتے ہیں،ایسا کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا ہم نے مار کھانے کے بعد بھی کالج نہیں چھوڑا۔سردیوں کے دن تھے اور ہم فارغ وقت کے دوران گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل رہے تھے کہ جیالے بھائیوں نے موٹر بائیکس پر ایسے دبنگ انٹری ماری جیسے بالی ووڈ فلموں میں ولن مارتا ہے۔انہوں نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، ہم پر مکوں گھونسوں کی بارش کردی،ڈنڈے اور ٹھڈے خوب لگے،اس بار بھی میرے ساتھ جواد قابو آیا اور ساتھ میں ہمارے ناظم (صہیب عمار صدیقی جو آج کل جماعت اسلامی ضلع ملتان کے امیر ہیں) بھی ہمارے ساتھ تھے ،صہیب بھائی گولڈ میڈلسٹ اور اچھے مقرر اور بہترین سکالر بھی ہیں۔

ان واقعات کا بتانا مقصود یہ تھا کہ جمعیت نے اچھے کام کیے۔ طلبہ کو مثبت سرگرمیاں دیں جو مخالفین کو برداشت نہیں تھیں۔ وہ اپنا قبضہ کالج پر چاہتے تھے ،پی ایس ایف کے گروہ میں سب غیر طلبہ عناصر تھے جن کو کالج کے اندر سے ہی سہولت کار پروفیسر ملے ہوئے تھے، اس گروہ کا کام صبح گیٹ پر کھڑے ہو کر بیچارے طلباء کی جیبوں کو صاف کرنا،کینٹین اور سائیکل سٹینڈ سے بھتہ وصولی ہوتاتھا ،ہماری وجہ سے ان کے کاروبار کو نقصان ہوتا تھا۔ کوئی اپنے کاروبار میں نقصان تھوڑا چاہے گا۔ جمعیت کی سب سے بڑی برائی بھی یہی تھی۔

اسلامی جمیعت طلبہ کے ساتھ گزارے گئے لمحات میری زندگی کے سب سے انمول لمحات ہیں،بخداجمعیت نے کبھی ہتھیار اٹھانے کا درس نہیں دیا۔جوانی کے عروج پر انسان برے کاموں سے بچ جائے اور اس کی تربیت بھی ایسی ہوجائے جس کو کرنے کی ذمہ داری اداروں کی ہوتی ہے تو اس سے بڑی نعمت کیا ہوگی۔آج کل ادارے ڈگریاں تو دے دیتے ہیں لیکن صلاحیت اور قابلیت صفر ہوتی ہے،سب سے بڑی منافقت یہ ہوتی ہے کہ بندہ اعتراف نہ کرے۔ جمعیت والے کوئی فرشتے بھی نہیں ہوتے ان سے بھی فیصلہ سازی میں غلطیاں ہوجاتی ہیں۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ گاؤں سے نکلنے کے بعد شعوری طور پر میں گونگا اور بہرا تھا،یہ جمعیت ہی ہے جس نے ٹاٹ سکول کے پڑھے ہوئے طالبعلم کو ہزاروں افراد کے سامنے بولنے کا اعتماد دیا،لکھنے کا ایسا ڈھنگ سکھایا کہ اپنے دل کی ہربات لفظوں میں پرو دیتا ہے۔ذہنی آبیاری ایسی کی کہ تنگ نظر کو وسیع و نظر بنا دیا،اسلام کا شعوردیا،دین کی خاطر قربانی دینے کا جزبہ، دوسروں سے محبت کا درس، قرآن کی حقیقی تعلیم عقلی دلیل کے ساتھ ، ملک سے وفاداری کا درس، فرقہ پرستی کی لعنت سے تحفظ۔سب سے بڑھ کر ملک سے محبت کا کلمہ پڑھایا۔ ظالم کے خلاف ڈٹ جانے کا ہنر ہے تو اسی جمعیت کا دیا ہوا ہے۔

جمعیت نے جماعت اسلامی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو قیادت دی ہے، صرف جماعت اسلامی ہی نہیں پیپلز پارٹی ہویا پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن ہویا کوئی اور سیاسی جماعت۔ سب میں اچھے لیڈرز ہیں تو جمعیت کی مرہون منت ہی ہیں۔ آج پی ٹی آئی سے بھی وہی لوگ وفا نبھارہے ہیں جن کو جمعیت نے وفا سکھائی۔

سٹوڈنٹس یونینز، بلدیاتی ادارے جمہوری نرسریاں ہیں، یہ نرسریاں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اجاڑدی گئی ہیں، آج جہاں بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا اور دیگر ممالک میں نوجوان، طالب علم اپنے لوگوں کی قیادت کررہے ہیں تو پاکستان میں بھی طلبہ یونینز کی شدید کمی محسوس کی جارہی ہے، بنگلہ دیش میں اسلامی چھاترو شبر(جعیت) کامیابیوں کو جھنڈے گاڑھ رہی ہے، یوننیز انتخابات کے بعد عام انتخابات کا منظر بھی صاف دکھائی دے رہا ہے۔ 

سید امجد بخاری کی طرح جمعیت میری بھی پہلی محبت اور محسن ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب لکھا ہے کہ 

جس کی آواز کانوں میں صبح صبح چڑیوں کی طرح چہکتی تھی

جس کی موجودگی سے فضاؤں میں خوشبو سی مہکتی تھی

وہ میری پہلی محبت تھی