گلگت بلتستان میں 7 جون کو جو ووٹ پڑا، اسے سمجھنے کے لیے صرف یہ جاننا کافی تھا کہ نواز شریف اور بلاول بھٹو کو اس سرد اور پہاڑی خطے میں جانا کیوں پڑا۔ اگر یہ الیکشن واقعی یک طرفہ ہوتا ،جیسا کہ حکومتی حلقوں میں کہا جاتا تھا ،تو اس قدر وسائل، توجہ اور ذاتی موجودگی کی ضرورت نہ ہوتی۔ جنگ میں محاذ وہیں مضبوط کیا جاتا ہے جہاں خطرہ ہو۔
جی بی کی سیاست کا ایک پرانا اصول تھا: یہاں کا ووٹر ہمیشہ وفاقی حکومت کو جتاتا ہے، کیونکہ اس خطے کی تمام تر معاشی بقا ،گندم کی سبسڈی سے لے کر ترقیاتی فنڈز تک ،اسلام آباد کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ 2020 میں پی ٹی آئی اسی اصول کے تحت جیتی تھی۔ اُس وقت مرکز میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی تھیں، اس لیے اسی اصول کے تحت اگر دیکھا جائے تو یہ الیکشن انہیں آسانی سے مل جانا چاہیے تھا۔ لیکن اگر ایسا تھا، تو پھر پی ٹی آئی کو میدان میں اترنے سے کیوں روکا جا رہا تھا؟
زمینی صورتحال ریکارڈ پر تھی: پی ٹی آئی کا انتخابی نشان ،بلا ،چھینا جا چکا تھا۔ اس جماعت کا کوئی بھی امیدوار آفیشل پارٹی ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑ رہا تھا۔ وہ سب "بینگن"، "چمچ"، "تالا" اور "لوٹا" جیسے نشانات کے ساتھ میدان میں تھے جن کا واضح مقصد ووٹر کو کنفیوز کرنا تھا۔ پارٹی کی مقامی قیادت یا تو مقدمات میں الجھی ہوئی تھی یا چھپے ہوئے تھے۔ جو امیدوار سرگرم تھے، انہیں کارنر میٹنگ کے لیے این او سی ملنے میں بھی مشکل پیش آ رہی تھی۔ لاؤڈ اسپیکر اور ریلیوں کی اجازت نہیں تھی۔
اس کے برعکس، نواز شریف اور بلاول بھٹو کے لیے پے در پے جلسے منعقد ہو رہے تھے، انتظامی وسائل استعمال ہو رہے تھے، اور وفاقی اسکیموں کا اعلان انتخابی مہم کے عین درمیان کیا جا رہا تھا۔ یہ تضاد اتفاقی نہیں تھا۔ اگر کوئی جماعت واقعی عوامی مقبولیت کھو چکی ہو، تو اسے میدان میں اتارا جاتا ہے اور وہ خود ہار جاتی ہے۔ پابندی لگانے کی ضرورت اسی وقت پیش آتی ہے جب ہار کا خوف ہو۔
فروری 2024 کے وفاقی انتخابات نے ایک ایسا نفسیاتی سبق چھوڑا تھا جس کا اثر آج تک محسوس کیا جا رہا ہے۔ اُس وقت بھی پی ٹی آئی کا نشان چھینا گیا تھا، امیدوار آزاد تھے، مہم پر غیر اعلانیہ پابندیاں تھیں ،اور پھر بھی پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں۔ گلگت بلتستان کی موجودہ حکمتِ عملی اسی تجربے کا براہِ راست ردِعمل دکھائی دیتی تھی ،اس بار پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ۔ لیکن یہاں ایک سوال اٹھتا ہے جس کا جواب نہ حکومت دیتی ہے اور نہ مقتدر حلقے: اگر 8 فروری کے بعد عمران خان واقعی "ختم" ہو گئے تھے، تو 15 ماہ بعد جی بی میں یہی حربے کیوں دہرائے گئے؟ ایک ختم ہوئی سیاسی طاقت کے خلاف انتظامی مشینری یوں متحرک نہیں ہوتی۔
سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جیل اکثر لیڈروں کو کمزور نہیں کرتی۔ عمران خان کی اڈیالہ جیل میں موجودگی نے ان کے حامیوں میں ایک ایسا جذباتی بیانیہ پیدا کیا تھا جسے کسی انتخابی مہم کی ضرورت نہیں تھی۔ پی ٹی آئی کے کارکن گھر گھر جا رہے تھے، سوشل میڈیا پر سرگرم تھے، ووٹروں کو سمجھا رہے تھے کہ کس حلقے میں کون سا "آزاد نشان" ان کا امیدوار ہے۔
حکومت ایک ہی وقت میں دو متضاد باتیں کہہ رہی تھی: پہلی یہ کہ ملک میں جمہوری عمل بحال ہے اور انتخابات آزادانہ ہو رہے ہیں۔ دوسری یہ کہ پی ٹی آئی ایک مردہ سیاسی قوت ہے جس کی عوامی حمایت ختم ہو چکی ہے۔ اگر دونوں باتیں سچ ہوتیں، تو کوئی مسئلہ نہ تھا ،پی ٹی آئی کو مکمل آزادی کے ساتھ میدان میں اتارا جاتا، وہ ہارتی، اور دونوں دعوے ثابت ہو جاتے۔ لیکن چونکہ انہیں میدان میں اترنے کی آزادی نہیں دی گئی، اس لیے اس کا مطلب یہ تھا کہ حکومت خود اپنے دوسرے دعوے پر یقین نہیں رکھتی تھی۔
الیکشن کا نتیجہ جو بھی آیا، یہ سوال قائم رہا۔ اگر پابندیوں کے باوجود پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار جیت گئے، تو یہ اس دعوے کی سب سے بڑی عوامی تردید ہوگی کہ "عمران خان کا باب بند ہو چکا ہے۔" اور اگر حکومت جیت گئی، تو تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ یہ جیت برابری کے میدان پر تھی یا ایک کھلاڑی کو دوڑنے سے پہلے ہی روک کر حاصل کی گئی تھی۔ سیاسی جواز کے لیے یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔







