پہلی نظر میں یہ منظر کسی پرسکون دیہات کی تصویر لگتا ہے۔مگر شاہدرہ کے رہائشی جانتے ہیں کہ راوی کی خاموشی پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دریا ہر سال ایک ہی کہانی دہراتا ہے۔

پہلے شمال مشرق کے پہاڑوں پر بارش ہوتی ہے، پھر خبروں میں سیلابی ریلے کی پیش گوئیاں سنائی دیتی ہیں اور اس کے بعد چند ہی گھنٹوں میں پانی کا رنگ، رفتار اور مزاج بدل جاتا ہے۔ جو زمین کل تک بچوں کے لیے  کھیل کا میدان تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بے قابو دریا میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

اسی لمحے بستیوں میں بے چینی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے ،  لوگ اپنے گھروں سے سامان سمیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ مویشیوں کو کھول کر اونچی جگہوں کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ عورتیں ضروری کپڑے اور دستاویزات ایک تھیلے میں رکھتی ہیں، جب کہ مرد بار بار دریا کا رخ دیکھتے ہیں، جیسے پانی کی رفتار سے اپنی قسمت کا اندازہ لگا رہے ہوں۔

یہ خوف کسی افواہ کا نتیجہ نہیں۔یہ ان لوگوں کی یادداشت میں محفوظ ان گنت راتوں کا خوف ہے، جب پانی ان کے گھروں کے دروازوں تک نہیں، بلکہ کمروں کے اندر تک پہنچ گیا تھا۔

شاہدرہ اور اس کے گردونواح میں آباد بہت سے خاندان نسلوں سے دریائے راوی کے کنارے رہ رہے ہیں۔ کسی کے لیے یہ زمین روزگار کا ذریعہ ہے، کسی کے لیے آباؤ اجداد کی نشانی اور کسی کے لیے وہ واحد جگہ جہاں وہ اپنا گھر بنانے کے قابل ہو سکا۔ 

وہ جانتے ہیں کہ راوی خطرناک ہے۔لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اسے چھوڑ دینا ان کے لیے اپنی زندگی چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہر مون سون ان کے لیے صرف موسم کی تبدیلی نہیں لاتا، بلکہ ایک امتحان بن کر آتا ہے۔ ایسا امتحان جس میں ہر بار یہی سوال سامنے ہوتا ہے کہ اس مرتبہ پانی کہاں تک آئے گا؟ کیا اس بار گھر بچ جائے گا؟ کیا مویشی سلامت رہیں گے؟ 

مقامی رہائشی کہتے ہیں کہ برسوں سے ان کے مطالبات نہیں بدلے۔ حکومت نے سڑکیں بنائیں، تاریخی مقامات کی تزئین و آرائش پر وسائل خرچ کیے، لیکن دریا کے کنارے آباد ان بستیوں کے لیے مستقل حفاظتی بند، مؤثر آبادکاری یا ایسا نظام نہیں بنایا جا سکا جو ہر سال لوٹ آنے والے اس خوف کو ختم کر سکے۔

ایک رہائشی سے جب میری بات چیت ہوئی تو اس کا کہنا تھا کہ   سڑکیں بعد میں بھی بن سکتی تھیں،  پہلے ہمارے گھروں اور مویشیوں  کو محفوظ بنایا جاتا۔ 

یہ صرف ایک شکایت نہیں، بلکہ ان ہزاروں لوگوں کی مشترکہ آواز ہے جو ہر سال مون سون کے آغاز کے ساتھ اپنی زندگیوں کو ایک بار پھر دریا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس سال بھی یہ کہانی خود کو دہرانے والی ہے۔

گزشتہ چند برسوں نے شاہدرہ کے لوگوں کو ایک بات اچھی طرح سکھا دی ہے کہ راوی کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ سال کا بیشتر حصہ خاموش رہنے والا یہ دریا، مون سون کے چند ہفتوں میں اپنی شناخت بدل لیتا ہے۔

دور پہاڑوں پر ہونے والی بارش یہاں بسنے والوں کے لیے صرف موسم کی خبر نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسے امتحان کا آغاز ہوتی ہے جس کا نتیجہ ہر بار کسی نہ کسی گھر کے نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔

اگست 2025 بھی ایسی ہی ایک صبح لے کر آیا تھا۔بارشیں مسلسل ہو رہی تھیں۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی تھیں، جب کہ دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی تھی۔

ابتدا میں لوگوں نے اسے معمول کی مون سون بارش سمجھا، لیکن چند ہی گھنٹوں بعد صورتحال بدلنا شروع ہوگئی۔راوی کے پانی میں  بھی غیر معمولی اضافہ  ہوا۔

سیلابی ریلا شاہدرہ کی جانب بڑھ رہا تھا  اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دریا اپنے کناروں سے آگے نکلنے لگا۔ جن راستوں پر کچھ دیر پہلے تک موٹرسائیکلیں اور رکشے چل رہے تھے، وہاں پانی پھیلنا شروع ہوگیا۔

نشیبی علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کو مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے اعلانات سنائی دینے لگے کہ لوگ فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔کئی گھروں میں لوگوں کو سامان سمیٹنے کا بھی وقت نہیں ملا۔

کسی نے بچوں کو اٹھایا، کسی نے بزرگوں کا سہارا لیا، تو کسی نے آخری لمحے تک اپنے مویشی بچانے کی کوشش کی۔ جو کچھ برسوں میں جمع کیا تھا، وہ چند گھنٹوں میں پانی کے رحم و کرم پر چھوڑنا پڑا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس مون سون میں پنجاب کے ہزاروں دیہات متاثر ہوئے، لاکھوں افراد سیلاب کی زد میں آئے اور متعدد اضلاع میں ریسکیو اداروں اور فوج کو امدادی کارروائیاں کرنا پڑیں۔

شاہدرہ سے متصل نشیبی آبادیاں بھی اس تباہی سے محفوظ نہ رہ سکیں، جہاں کئی گھروں میں پانی داخل ہوگیا اور لوگوں کو ہنگامی طور پر انخلا کرنا پڑا۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اصل آزمائش سیلاب کے دوران نہیں، بلکہ اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔

پانی اتر جاتا ہے، مگر دیواروں پر نمی کے نشان رہ جاتے ہیں۔ کچی گلیاں کیچڑ میں بدل جاتی ہیں، مویشی بیمار ہو جاتے ہیں، فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور جن گھروں میں کبھی بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں دوبارہ زندگی بحال کرنے میں مہینے لگ جاتے ہیں۔

امدادی ٹیمیں آتی ہیں، راشن تقسیم ہوتا ہے، متاثرہ علاقوں کے دورے بھی کیے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی پانی واپس دریا میں سمٹتا ہے، حکومتی توجہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔اسی لیے ہر نیا مون سون ان کے لیے ایک نئی شروعات نہیں، بلکہ پچھلے زخموں کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔

اب ایک بار پھر خطرہ ان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے رواں سال مون سون کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ بارشیں معمول سے زیادہ شدید ہو سکتی ہیں، ج بکہ محکمہ موسمیات بھی پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے خدشات ظاہر کر چکا ہے۔

یہ خبریں شاید شہروں میں رہنے والوں کے لیے صرف موسمی اپ ڈیٹس ہوں، لیکن شاہدرہ کے کنارے رہنے والوں کے لیے ان کا مطلب کچھ اور ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ایک بار پھر وہی بے خوابی کی راتیں آنے والی ہیں۔

ایک بار پھر سامان باندھنے کے تھیلے تیار ہوں گے۔ایک بار پھر لوگ دریا کی طرف نظریں جمائے پانی کی رفتار کا اندازہ لگائیں گے اور ایک بار پھر یہی دعا کی جائے گی کہ شاید اس بار پانی دروازے تک نہ پہنچے۔

مگر اس پوری کہانی کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ یہاں اسی دریا کے کنارے جہاں ایک طرف لوگ ہر مون سون میں اپنے گھروں کو بچانے کی جنگ لڑتے ہیں، وہیں چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک تاریخی عمارت کو نئی زندگی دینے کا کام جاری ہے۔ یہ عمارت ہے کامران کی بارہ دری اور یہی وہ مقام ہے جہاں اس کہانی کا سب سے اہم سوال جنم لیتا ہے۔

دریائے راوی کے کنارے کھڑے ہو کر اگر نظر ذرا دور تک جائے تو ایک قدیم عمارت دکھائی دیتی ہے۔ اس نے مغلوں کا عروج بھی دیکھا، سکھ دور بھی دیکھا، برطانوی راج بھی اور اب ایک نئے پاکستان کو بھی دیکھ رہی ہے۔

دریا نے کئی بار اپنا راستہ بدلا، کنارے ٹوٹے، بستیاں بدل گئیں۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ عمارت سولہویں صدی میں مغل شہزادے کامران مرزا نے تعمیر کروائی تھی۔ اس زمانے میں دریائے راوی اس سے کافی فاصلے پر بہتا تھا اور اردگرد سرسبز باغات ہوا کرتے تھے۔

وقت گزرتا گیا، دریا کا رخ بدلتا گیا، باغ پانی کی نذر ہوتے گئے، لیکن نسبتاً بلند مقام پر ہونے کی وجہ سے بارہ دری قائم رہی۔یہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی ایک عمارت نہیں، بلکہ لاہور کی تاریخی شناخت کا حصہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حکومتِ پنجاب نے شہر کے تاریخی ورثے کی بحالی کے منصوبوں میں اسے بھی شامل کیا۔ اس کی مرمت، تزئین و آرائش اور اطراف کی خوبصورتی پر کام شروع ہوا تاکہ اسے دوبارہ ایک اہم سیاحتی مقام بنایا جا سکے۔

بارہ دری سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک بالکل مختلف منظر ہے۔ وہاں نہ تاریخ محفوظ کی جا رہی ہے اور نہ ہی سیاحت کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ وہاں لوگ اپنے گھروں کو بچانے کی فکر میں ہیں۔

شاہدرہ کے رہائشی حکومت کے اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرتے۔ ان میں سے اکثر اس تاریخی عمارت پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ورثے کی حفاظت ہونی چاہیے، کیونکہ یہی ہماری تاریخ ہے۔

مگر ان کے ذہن میں ایک سوال مسلسل گردش کرتا ہے کہ اگر ایک چار سو سال پرانی عمارت کو محفوظ رکھنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو دریا کے کنارے رہنے والے ہزاروں انسانوں کو محفوظ بنانے کے لیے مستقل منصوبہ کیوں نہیں بنایا جا سکتا؟

یہ سوال صرف ایک شخص نہیں پوچھتا؟ یہ ہر وہ خاندان پوچھتا ہے جو ہر مون سون میں اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ ہر وہ ماں پوچھتی ہے جو بارش شروع ہوتے ہی بچوں کے کپڑے اور ضروری کاغذات ایک تھیلے میں رکھ دیتی ہے۔ یہ ہر وہ کسان پوچھتا ہے جس کی فصل پانی لے جاتا ہے اور ہر وہ مزدور پوچھتا ہے جو اگلے دن کی مزدوری سے پہلے اپنے گھر کی دیواریں بچانے کی فکر کرتا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق برسوں سے ان کے مطالبات وہی ہیں۔ایک مضبوط حفاظتی بند، سیلابی خطرے سے دوچار آبادیوں کی باقاعدہ منتقلی اور ایسا نظام جو ہر سال انہیں ایک ہی خوف کے ساتھ جینے پر مجبور نہ کرے۔ انہیں امدادی پیکج نہیں چاہیے، بلکہ ایسا حل چاہیے جس کے بعد ہر مون سون ان کے لیے قیامت کا پیغام نہ بنے۔

 دریا کے قدرتی راستے میں بننے والی غیر قانونی آبادیاں اور تجاوزات بھی مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔ جب پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو سیلاب کا دباؤ بڑھتا ہے اور نقصان کا دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔

مسئلہ صرف بند بنانے یا سڑک تعمیر کرنے سے حل نہیں ہوگا۔ ضرورت ایک ایسی جامع حکمتِ عملی کی ہے جس میں دریا کا قدرتی بہاؤ بھی محفوظ رہے، خطرے سے دوچار آبادیوں کو بھی تحفظ ملے اور تاریخی ورثہ بھی محفوظ رکھا جا سکے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی راوی کے کنارے رہنے والے لوگ ہر بارش کے ساتھ یہی سوچتے ہیں کہ شاید اس بار ان کی باری نہ آئے۔ شاید اس بار پانی ان کے دروازے تک نہ پہنچے۔شاید اس بار ان کے بچوں کو رات کے اندھیرے میں گھر چھوڑ کر نہ بھاگنا پڑے۔

مگر یہ  شاید  ہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا خوف بن چکا ہےاور یہی خوف اس پوری کہانی کو صرف ایک سیلاب کی خبر نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے ریاستی ترجیحات، انسانی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے درمیان کھڑے ایک بڑے سوال میں بدل دیتا ہے۔

آخر میں سوال صرف راوی کا نہیں ہماری ترجیحات کا ہےسیلاب گزر جاتا ہے۔ پانی واپس اپنے بہاؤ میں سمٹ جاتا ہے، ریت دوبارہ نمودار ہونے لگتی ہے، بچے پھر اسی خشک پاٹ پر کرکٹ کھیلنے لگتے ہیں، مویشی ایک بار پھر کنارے پر چرنے آ جاتے ہیں اور زندگی آہستہ آہستہ اپنی معمول کی رفتار اختیار کر لیتی ہے۔

بظاہر سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر سیلاب اپنے پیچھے صرف ٹوٹی ہوئی دیواریں یا خراب فصلیں نہیں چھوڑتا، بلکہ لوگوں کے دلوں میں ایک ایسا خوف بھی چھوڑ جاتا ہے جو اگلے مون سون تک زندہ رہتا ہے۔

سرکاری اداروں کا کہنا ہے کہ ہر سال مون سون سے پہلے الرٹ جاری کیے جاتے ہیں، ریسکیو ٹیموں کو متحرک رکھا جاتا ہےاور متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی منصوبے تیار کیے جاتے ہیں۔

رواں برس بھی این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات نے معمول سے زیادہ بارشوں اور ممکنہ سیلاب کے خدشات سے خبردار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو پیشگی تیاری کی ہدایت کی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے انداز کو بدل دیا ہے۔ اب مختصر وقت میں زیادہ شدت سے بارش ہوتی ہے، جس کے باعث دریاؤں میں اچانک طغیانی کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔

ہنگامی امداد کافی نہیں، بلکہ دریا کے قدرتی بہاؤ کو بحال رکھنا، بروقت وارننگ سسٹم کو مقامی سطح تک مؤثر بنانا اور خطرے سے دوچار آبادیوں کے لیے دیرپا منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔مگر شاہدرہ کے لوگوں کے لیے یہ بحث اعدادوشمار یا پالیسی کی نہیں۔

ان کے لیے یہ اپنے بچوں، اپنے گھروں اور اپنے مستقبل کی بات ہے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ کامران کی بارہ دری کی بحالی روک دی جائے۔ وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ تاریخ کو فراموش کر دیا جائے۔

وہ صرف اتنا پوچھتے ہیں کہ اگر چار سو سال پرانی ایک عمارت کو محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، تو کیا اسی دریا کے کنارے رہنے والے ہزاروں انسانوں کو محفوظ رکھنا بھی اتنی ہی بڑی ذمہ داری نہیں؟

شاید اس سوال کا جواب کسی سرکاری فائل میں موجود ہو۔شاید کسی ترقیاتی منصوبے میں اس کا ذکر بھی ہو۔ لیکن راوی کے کنارے رہنے والوں کے لیے جواب کاغذوں پر نہیں، زمین پر چاہیے کیونکہ ان کے لیے ہر مون سون ایک نئی خبر نہیں، بلکہ زندگی اور بقا کے درمیان ایک نئی آزمائش ہوتی ہے۔

دریائے راوی آنے والے دنوں میں پھر بہے گا۔بارشیں پھر ہوں گی۔سیلابی ریلے بھی شاید ایک بار پھر انہی راستوں سے گزریں گے، کامران کی بارہ دری اپنی جگہ کھڑی رہے گی۔

لیکن اس کے سائے میں بسنے والے لوگ ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔انہیں بارش سے نفرت نہیں۔انہیں صرف یہ خوف ہے کہ کہیں اس بار بھی پانی ان کے خواب اپنے ساتھ نہ بہا لے جائے اور شاید یہی اس کہانی کا سب سے بڑا سوال ہے۔ہم اپنی تاریخ کو تو محفوظ کرنا چاہتے ہیں مگر کیا ہم اپنے لوگوں کو بھی اسی اہمیت سے محفوظ کر رہے ہیں؟

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر