کراچی کی آبادی کو جان بوجھ کر کم دکھایا جاتا ہے، جس سے شہری اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کا مرکزی مسئلہ کراچی اسٹریٹیجک ماسٹر پلان ہے، جو 10 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ کی مداخلت سے نوٹیفائی ہوا، مگر سندھ حکومت نے اسے غائب کر دیا۔
یہ پلان شہر کی منصوبہ بندی، ترقی اور عوام کی بہتری کا ضامن تھا، لیکن سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اس پلان پر عملدرآمد کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں مقدمہ لڑ رہی ہے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے دستخطی مہم چلا رہی ہے۔ 2 دسمبر کو یہ مسئلہ عوامی سطح پر اٹھایا جائے گا تاکہ کراچی کے عوام کا اجتماعی شعور بیدار ہو اور شہر کو اس کے حقوق مل سکیں۔
کراچی اسٹریٹیجک ماسٹر پلان کی تاریخ مشرف دور حکومت سے جڑی ہوئی ہے۔ 2000 کی دہائی میں، ایم کیو ایم کے بلدیاتی دور میں، یہ پلان 274 ارب روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا۔ اس کی تیاری میں شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز، دنیا بھر کے ماہرین، شعبہ جاتی ایکسپرٹس اور بین الاقوامی اداروں کی مشاورت شامل تھی۔
ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور جائیکا (جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی) نے 14 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے تاکہ لوکل گورنمنٹ ایک جامع ماسٹر پلان بنا سکے۔ یہ پلان کراچی کی بلدیاتی اسمبلی، تمام کنٹونمنٹ بورڈز اور وفاقی اداروں نے منظور کیا۔
یہ شہر کی ترقی کا نقشہ تھا، جس میں رہائش، ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج، انفراسٹرکچر اور ماحولیاتی تحفظ کے تمام پہلوؤں کو احاطہ کیا گیا تھا۔ پلان ایک گھر کی مانند تھا، جہاں ہر چیز کی جگہ رہنے والوں کے اختیار میں ہوتی ہے۔ کراچی کی عوام کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے شہر کی منصوبہ بندی خود کریں۔
مگر 2010 میں سٹی گورنمنٹ کے خاتمے کے بعد یہ پلان غائب ہو گیا۔ سندھ حکومت نے لوکل گورنمنٹ کو کمزور کر کے کراچی پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ 10 اکتوبر 2018 کو سپریم کورٹ کی سخت مداخلت پر چیف منسٹر سندھ نے اس پلان کو دوبارہ نوٹیفائی کیا، مگر چند گھنٹوں بعد ہی اسے غائب کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ پلان کی کوئی نقل بھی نہیں رکھی گئی۔
یہ عمل نہ صرف غیر قانونی تھا بلکہ کراچی کے عوام کے ساتھ کھلی زیادتی تھی۔ ایم کیو ایم کے وکیل ایڈوکیٹ طارق منصور نے عدالت میں وضاحت کی کہ یہ پلان 2007 میں ایم کیو ایم نے شروع کیا تھا اور 12 سال سے بند محکمہ کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش تھی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ پلان کو بحال کیا جائے، مگر سندھ حکومت نے اسے نظر انداز کر دیا۔
سندھ حکومت کی یہ پالیسیاں کراچی کو تباہ کر رہی ہیں۔ شہر کی آبادی کو مردم شماری میں کم دکھایا جاتا ہے تاکہ وسائل کی تقسیم میں کراچی کا حصہ کم ہو۔ این ایف سی ایوارڈ، کوٹہ سسٹم اور ترقیاتی فنڈز میں کراچی کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً، شہر میں ٹریفک، پانی کی قلت، سیوریج کا بحران، کچی آبادیاں اور ماحولیاتی آلودگی بڑھتی جا رہی ہے۔
کراچی دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھتا شہر ہے، مگر وسائل نہ ملنے سے یہ ترقی کے منازل طے نہیں کر پا رہا۔ اگر ماسٹر پلان پر عمل نہ ہوا تو کراچی کے شہری اکثریت سے اقلیت میں بدل جائیں گے۔ سندھ حکومت کی یہ سازش ہے کہ کراچی کو دیہی سندھ کا غلام بنا دیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی پر ظلم کی انتہا کر دی ہے، مگر کراچی کی عوام اب خاموش نہیں رہے گی۔
ایم کیو ایم پاکستان اس مسئلے پر بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔ پارٹی نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے اور پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ دستخطی مہم کا آغاز کر کے عوام کو شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ مہم کراچی کے ہر گھر، ہر محلے تک پہنچے گی۔ 2 دسمبر کو عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا جہاں یہ بات منظر عام پر لائی جائے گی کہ سندھ حکومت کراچی کو اقلیت بنا رہی ہے۔ کہ ماسٹر پلان کراچی کی بنیاد ہے۔
اس پر عملدرآمد سے شہر کو جدید انفراسٹرکچر، پبلک ٹرانسپورٹ، ہاؤسنگ اور روزگار کے مواقع ملیں گے۔ یہ پلان نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرے گا، کیونکہ کراچی ٹیکسوں کا 70 فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔
کراچی کی عوام کو اب بیدار ہونا ہوگا۔ ظلم اور زیادتی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر کو برباد کر دیا، کراچی کی عوام سے گزارش ہے دستخط کریں، مہم میں شامل ہوں اور 2 دسمبر کو سڑکوں پر نکلیں۔ یہ لڑائی کراچی کی بقا کی ہے۔
اگر پلان بحال نہ ہوا تو شہر تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔ سپریم کورٹ، وفاقی حکومت اور عوام کو مل کر سندھ حکومت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ پلان کو نوٹیفائی کرے اور عملدرآمد شروع کرے۔
آخر میں، کراچی کا ماسٹر پلان صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ شہر کی امید ہے۔ یہ پلان عوام کی آواز ہے، جو کہتی ہے کہ کراچی کو اس کے حقوق دو۔ سندھ حکومت کی غفلت اور سازشوں کے باوجود، ایم کیو ایم کی جدوجہد جاری رہے گی۔ 2 دسمبر کا دن کراچی کی تاریخ کا اہم موڑ ہو گا۔ آئیے، متحد ہو کر شہر کو بچائیں اور ترقی کی راہ پر ڈالیں۔ اللہ پاک ہمیں اس پر جدوجہد کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
نوٹ: بلاگرکے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں، ایڈیٹر







