ان کے مشورے کے بعد واٹس ایپ گروپس میں اس پر بحث جاری ہے، فیس بک پر میمز چل رہے ہیں، انسٹا گرام پرریلیز، ٹک ٹاک پر شارٹ ویڈیوزکی صورت میں وائرل ہیں۔


اس ساری صورتحال پرتجسس بڑھا تو میں نے بھی معاملے کی کھوج لگانے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ یہ بحث تب شروع ہوئی جب چوہنگ کی خیمہ بستی میں الخدمت کے رضا کار حامد کو باؤلے کتے نے کاٹ لیا اور اس وقت زیرعلاج ہے۔ حامد ریبیز سے تو بچ گیا مگر قیصر شریف نے دیگر شہریوں کو بھی ’باؤلے کتوں‘ کے شر سے بچانے کا بیڑہ اٹھالیا ہے۔ 


مریم نواز صاحبہ اپنے سیاسی مخالف کے مشورے کو کتنا سنجیدہ لیتی ہیں یہ تو ان پرہی منحصر ہے، ویسے بھی وہ آج کل دانستہ طور پر ہاتھ دھو کر سندھ کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔

جماعت اسلامی سے یاد آیا کہ جب سے حافظ نعیم الرحمان نے لاہور جلسے میں مطالبہ کیا ہے کہ ’ جیل سے سارے ٹوئیٹ کیے جاسکتے ہیں، مگر حماس کی حمایت کا ٹوئیٹ نہیں ہوتا، نیتن یاہو اور ٹرمپ کی مذمت کا ٹوئیٹ نہیں ہوتا، پاکستانی قوم سب کچھ دیکھ رہی ہے۔‘


 تب سے ان پر تنقید ہورہی ہے، پی ٹی آئی کارکن الزامات لگاتے اور گالیاں دیتے نظر آئے تو ’جماعتیے‘ جارحانہ انداز میں جواب دیتے پائے گئے۔ 

یہ بات مجھے سمجھ نہیں آئی کہ جب امریکا سے ’رومانس‘ بڑھ رہا ہے، سعودی عرب سے معاہدے ہورہے ہیں، ملائیشیا کو علامہ اقبال کے شعر سنائے جارہے ہیں توبیچ میں یہ بحث کہاں سے آگئی؟ 

خیر واپس آتے ہیں کتوں کی طرف تو فیض احمد فیض لکھتے ہیں کہ 

 یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے 

 کہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائی 

 زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا 

 جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی

صرف فیض پر نہیں رکنا ایک سوشل میڈیا صارف نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی کے پیچھے بھاگتے ایک پارٹی کے کارکنوں کے بارے میں لکھا تھا کہ ’کتے تاریخ نہیں پڑھتے وگرنہ یوں گاڑیوں کے پیچھے نہ بھاگتے‘۔ 


اسی بحث میں پطرس بخاری کا مضمون نظر سے گزرا، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’ کتا وفادار جانور ہے، اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لیے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے، تو ہم لنڈورے ہی بھلے۔‘

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کی جماعت اسلامی کے خلاف مہم، فائدہ کس کو پہنچایا گیا؟

آگے چل کر پھر وہ لکھتے ہیں کہ ’اگر خدا مجھے کچھ عرصے کے لیے اعلیٰ قسم کے بھونکنے اور کاٹنے کی طاقت عطا فرمائے، تو جنون انتقام میرے پاس کافی مقدار میں ہے، رفتہ رفتہ سب کتے علاج کے لیے کسولی پہنچ جائیں۔‘

 کچھ سمجھ میں آیا یا نہیں۔ سمجھ میں نہیں آیا تو سنسان گلیوں میں ان کا مشاہدہ کرنا شروع کردیں، گوشت کے پھٹوں پر قریب ان حیوانوں کو دیکھیں یا پھر گھروں میں پالے گئے اس وفادار جانور کی خصوصیات پڑھیں (قیصر شریف کا اشارہ شاید انہی کی طرف ہے)۔


خیر اس وفادار جانور کی خصوصیات سے وہ شخص کیسے ناواقف ہو سکتا جس کے بیڈروم تک ’شیرو‘کی رسائی ہو، جس کے کھانے کی میز پر’زورو‘ کے قصے ہوں ۔


نوٹ: بلاگرکے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر