سوال مگر یہ ہے کہ یہ تباہی آسمان سے نازل ہوئی یا اسے زمین پر بٹھانے والوں کے ہاتھ بھی اس میں رنگین ہیں؟ کوئی مانے یا نہ مانے،حقیقت یہ ہے کہ جس نظام کو آج کوسا جا رہا ہے،اسی کے’کندھوں‘ پر سوار ہو کر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کی گئی۔
کوئی مانے یا نہ مانے، چار سالہ دور میں وہی’فیصلے‘ ہوئے جنہوں نے اداروں کو کمزور،معیشت کو نڈھال اور عوام کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا اور کوئی مانے یا نہ مانے،آج جو’نوحہ‘ پڑھا جا رہا ہے،اس کے کئی’مصرعے‘ انہی ہاتھوں سے لکھے گئے جنہیں اب’مصلح‘بننے کا شوق چرایا ہے۔
محسن نقوی کا یہ کہنا کہ ستر برس سے ایک ہی نظام گھسیٹا جا رہا ہے، بظاہر ایک سادہ سی بات لگتی ہے مگر اس کے پیچھے ایک’خطرناک بیانیہ‘ چھپا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، یہ وہی سوچ ہے جو ہر ناکامی کا بوجھ’ماضی‘ پر ڈال کر’حال‘ کی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ نظام کتنا پرانا ہے، سوال یہ ہے کہ اسے چلانے والے کتنے مخلص، کتنے اہل اور کتنے جواب دہ ہیں؟ گزشتہ چار برسوں پر نظر ڈالیں تو تصویر دھندلی نہیں بلکہ حد درجہ واضح ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے، انتظامی فیصلوں میں شفافیت کی جگہ عجلت نے لی، پالیسی سازی میں تسلسل کی جگہ وقتی مفادات نے اور احتساب کے نام پر انصاف کی بجائے انتقام کی بو محسوس ہوتی رہی۔ اداروں کے درمیان تناو بڑھا،معیشت تجربات کی تجربہ گاہ بنی اور عوامی مسائل ترجیحات کی فہرست میں نیچے سے بھی نیچے چلے گئے۔
کوئی مانے یا نہ مانے، اگر نظام واقعی تباہ ہوا ہے تو اس کے ملبے تلے صرف ماضی نہیں، حال کے کردار بھی دبے ہوئے ہیں۔ وہی کردار جو آج سوال اٹھا رہے ہیں، کل جواب دینے کی پوزیشن میں تھے، مگر جواب دینے کے بجائے انہوں نے سوالات کو ہی مشکوک بنا دیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی نظام کی تباہی کی بات درست بھی ہو سکتی ہے، مگر ادھوری ہے اور ادھورا سچ اکثر مکمل جھوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے، نظام ’خودکشی‘ نہیں کرتا، اسے قتل کیا جاتا ہے اور قاتل اکثر وہی ہوتے ہیں جو بعد میں” تعزیتی بیانات“ بھی جاری کرتے ہیں۔ آج ملک داخلی انتشار کا شکار ہے۔سڑکوں سے پارلیمان تک بے یقینی،اداروں سے معیشت تک بداعتمادی اور عوام سے ریاست تک ایک گہرا فاصلہ۔
سوال یہ ہے کہ یہ خلا پیدا کس نے کیا؟ کوئی مانے یا نہ مانے، یہی وہ چہرے ہیں جو چار سال سے اقتدار کے گرد گھومتے رہے، فیصلوں کے محور بنے رہے اور آج خود کو بری الذمہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
کوئی مانے یا نہ مانے، ان چار سالوں میں حکمرانی نہیں ہوئی، کھلواڑ ہوا ہے۔ پالیسی نہیں بنی تجربے کیے گئے۔ استحکام نہیں آیاعدم استحکام کو ادارہ جاتی شکل دی گئی اور سب سے بڑھ کر سنجیدگی نہیں دکھائی گئی بلکہ ایک ایسے طرزِ حکمرانی کو فروغ دیا گیا جہاں ریاستی ذمہ داری اور ذاتی دلچسپی کی حدیں مٹ گئیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بھاشن سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اس کے اندر اتنی ہی گہری منافقت کی تہیں چھپی ہوئی ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے، نظام خود نہیں ٹوٹتا، اسے توڑا جاتا ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے، ادارے خود نہیں بکھرتے، انہیں بکھیرنے والے ہوتے ہیں اور کوئی مانے یا نہ مانے، چار سال سے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے وہی لوگ آج ماتم کر رہے ہیں جنہوں نے اس تباہی کی بنیاد رکھی۔
یہ کیسی سادہ لوحی ہے کہ ستر برس کا حساب ایک سانس میں مانگا جا رہا ہے، مگر گزشتہ چار سال کی کتاب بند رکھنے پر اصرار ہے؟ کوئی مانے یا نہ مانے،یہی وہ چار سال ہیں جن میں ریاستی ڈھانچے کو تجربہ گاہ بنایا گیا، آئینی توازن کو کھلونا سمجھا گیا اور حکمرانی کو ایک عارضی کھیل بنا دیا گیا۔ فیصلے کیے گئے مگر ذمہ داری کے بغیر، پالیسیاں بنیں مگر بصیرت کے بغیر، دعوے کیے گئے مگر سچ کے بغیر۔
کوئی مانے یا نہ مانے، یہ وہی دور ہے جب معیشت کو اعداد و شمار کے جادو سے سنوارنے کی کوشش کی گئی جب کہ زمین پر حقیقت مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری جمود کی صورت میں چیخ رہی تھی۔ روپے کی بے قدری کو عالمی حالات کا نام دے کر ٹالا گیا، مگر اندرونی نااہلی پر خاموشی چھائی رہی۔
کوئی مانے یا نہ مانے،احتساب کا نعرہ لگایا گیا مگر انصاف کا قتل ہوا۔ قانون کی بالادستی کا دعویٰ کیا گیا مگر قانون کو ہی موم کی ناک بنا دیا گیا۔ سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانا حکمرانی سمجھ لیا گیا اور اداروں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دینا ”اصلاح“ کا نام پانے لگا۔
کیا یہی وہ نظام نہیں جسے آج” تباہ“ قرار دیا جا رہا ہے؟ اور پھر وہ”سرپرست“ جو پس پردہ رہ کر فیصلے کرتے رہے، جو طاقت کے اصل مراکز تھے، جو جمہوریت کے نام پر غیر جمہوری ڈھانچے کو پروان چڑھاتے رہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے! اگر نظام آج لڑکھڑا رہا ہے تو اس کی بنیادیں انہی ہاتھوں سے کمزور کی گئیں۔ انہوں نے سیاسی استحکام کو قربان کیا، وقتی مفادات کو ترجیح دی اور ایک ایسا ماحول پیدا کیا جہاں اصول نہیں، مفاد حکمرانی کرتا رہا۔
کوئی مانے یا نہ مانے، جب اقتدار کو جواب دہی سے آزاد کر دیا جائے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ جب فیصلے عوام کے بجائے بند کمروں میں ہوں تو انجام یہی ہوتا ہے۔ جب سچ کو بیانیے کے نیچے دفن کیا جائے تو حقیقت اسی طرح سڑتی ہے جیسے آج سڑ رہی ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے،عوام کا دل واقعی اسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں امید اور مایوسی کی لکیر مدھم پڑ چکی ہے۔ بات سیدھی مگر بے رحم ہے کہ اگر نظام تباہ ہے تو اس کے”معمار“ کون ہیں؟ اگر ملک اس نہج پر پہنچا ہے تو ذمہ دار کون ہیں اور اگر وہی لوگ آج بھی”مسیحا “بننے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ محض ستم ظریفی نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی فریب ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے، سچ یہی ہے، یہ زوال حادثہ نہیں، ترتیب دی گئی کہانی ہے اور اس کہانی کے کردار بھی پہچانے ہوئے ہیں۔







