واقعے کی اطلاع دینا صحافت ہے، لیکن متاثرہ بچے یا بچی کے گھر جا کر کیمرے کے سامنے خاندان کے افراد کے جذباتی انٹرویو کرنا، گھر، گلی، محلہ اور دیگر شناختی علامات دکھانا، یا متاثرہ کا چہرہ نشر کرنا صحافت نہیں بلکہ ایک معصوم کی تکلیف کو عوامی تماشہ بنا دینا ہے۔
صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خبر سے کسی بے گناہ شخص کو مزید نقصان نہ پہنچے۔ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچے یا بچی کی شناخت ظاہر کرنا نہ صرف صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے متاثرہ کی پوری زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسے بچے معاشرتی دباؤ، ذہنی صدمے، تعلیمی مسائل اور سماجی بدنامی کا سامنا کر سکتے ہیں۔ میڈیا کی ایک غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ ان کے زخم مزید گہرے کر دیتی ہے۔
بین الاقوامی ادارے UNICEF، International Federation of Journalists اور دنیا کے معتبر صحافتی ادارے واضح طور پر ہدایت دیتے ہیں کہ بچوں سے متعلق حساس مقدمات میں ان کی شناخت ہر صورت محفوظ رکھی جائے۔ صرف چہرہ بلر کرنا کافی نہیں، بلکہ نام، والدین کی شناخت، گھر، اسکول، محلہ اور ہر وہ تفصیل بھی چھپائی جائے جس سے متاثرہ کی شناخت ممکن ہو۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض رپورٹرز سبقت لے جانے کی دوڑ میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ متاثرہ خاندان کے آنسو بھی کیمرے کی زینت بن جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو انصاف کی خبر دینا ضروری ہے یا متاثرہ خاندان کے دکھ کو بار بار نشر کرنا؟ کیا ایک معصوم بچے کی زندگی سے بڑھ کر کوئی "بریکنگ نیوز" ہو سکتی ہے؟
صحافت کا مقصد عوام کو باخبر رکھنا، ریاستی اداروں سے جواب طلب کرنا اور انصاف کے عمل کی نگرانی کرنا ہے، نہ کہ کسی متاثرہ خاندان کی نجی زندگی کو لاکھوں لوگوں کے سامنے پیش کرنا۔ اگر میڈیا واقعی معاشرے کی رہنمائی کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ خبر ضرور دیجیے، لیکن متاثرہ کی عزت، رازداری اور مستقبل کو داؤ پر لگائے بغیر۔
میڈیا ہاؤسز کی انتظامیہ، نیوز ایڈیٹرز اور رپورٹرز کو بچوں سے متعلق رپورٹنگ پر باقاعدہ تربیت دی جانی چاہیے۔ ہر ادارے میں واضح ایڈیٹوریل پالیسی ہونی چاہیے کہ نابالغ متاثرین کی شناخت کسی صورت ظاہر نہیں کی جائے گی۔ ریٹنگ، ویوز اور چند لمحوں کی مقبولیت کے لیے کسی معصوم کی پوری زندگی کو خطرے میں ڈالنا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔
ایک ذمہ دار صحافی ہمیشہ یہ سوال خود سے پوچھتا ہے کہ "جو خبر میں نشر کرنے جا رہا ہوں، کیا اس سے کسی معصوم بچے کو نقصان تو نہیں پہنچے گا؟" اگر اس سوال کا جواب "ہاں" ہے تو پھر ایسی خبر کی اشاعت یا اس کی موجودہ شکل میں نشر کرنا صحافت نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ اور اخلاقی ذمہ داری سے انحراف ہے۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ متاثرہ بچوں کو ہماری ہمدردی، تحفظ اور انصاف کی ضرورت ہے، نہ کہ کیمروں کی چمک، مائیکروفونز کی بھیڑ اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کی۔ صحافت تبھی اپنا اصل مقصد پورا کرے گی جب وہ خبر کے ساتھ انسانیت کا دامن بھی مضبوطی سے تھامے رکھے۔







