مریدکے میں ہونے والے واقعات اورسوشل میڈیا پر ہونے والے تبصرے میری نظر سے گزرے۔۔۔جنہیں دیکھ کر میں بہت رنجیدہ ہوا۔۔۔اور میرے ذہن میں ایک سوال نے جنم لیا کہ آخر کیا ایسا ہوگیا ۔۔۔جو بات اس نہج تک آن پہنچی۔۔۔میں تو اس خدا کو سجدہ ریز ہوتا ہوں جس نے اپنے نبی کریم ﷺ پر نازل کردا کتاب قرآن مجید میں فرمایا کہ ’جس نے ایک انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا‘۔۔۔یہ آیت انسانیت کی قدر و قیمت کا ایسا سبق ہے جسے ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔
چند دنوں سے ملک میں جو واقعات اور سیاسی کشیدگیاں چل رہی ہیں، اُن کے نتیجے میں سوشل میڈیا اور حقیقی زندگی میں ہم نے وہ منظر دیکھا ہے جو ہمارے پروردگار اور نبیِ کریم ﷺ کی تعلیمات سے متصادم ہے — ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مددگار، دوست اور بھائی ہونا چاہیے، قاتل نہیں۔
پچھلے چند دنوں سے مذہبی جماعت اور حکومت آمنے سامنے ہیں، کون غلط ہے کون درست؟ یہاں یہ بحث نہیں ۔۔۔ میرادل تواس بات سےدکھی ہے کے پاکستانی پاکستانی کے سامنےہے ۔ ہمارے آباؤ اجداد نے تو ہمیں یہ روایات نہیں دیں۔ لیکن مسلمان مسلمان کا بھائی ہے یہ ہمارے اسلاف کی میراث ہے۔
حضور رحمتِ عالمﷺ نے مومنین کے درمیان محبت اور ہمدردی کو ایک جسم کی مانند تشبیہ دی
ترجمعہ: "مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، نیند اُڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"
یہ تشبیہ ہمیں روزِ محشر کے لیے بھی تیار کرتی ہے — اگر ہم دنیا میں اپنے بھائی کی رنجش، غصہ اور نفرت کو بڑھائیں گے تو وہی سلوک ہمارے لیے آخرت میں محسوس ہوگا؟ کیا ہم اپنے ضمیر سے کہہ سکیں گے کہ ہم نے بھائی چارے اور رواداری کو بچایا؟
امام حسن ؓ کا بھی پیغام امن کی دعوت دیتا ہے: ’جب مسلمانوں کے درمیان اختلافات اتنے بڑھ جائیں کہ ٹکراٶ پیدا ہو، تو امن کا معاہدہ کر لینا حکمت کا تقاضا ہے۔ دینِ اسلام نے ہمیں امن، تحمل اور صبر کی تلقین کی ہے؛ نفسی تسکین اور ذاتی انا کی خاطر کسی انسان کی جان لینا ہمارے دین کے خلاف ہے۔‘
مذہبی جماعت کے فیصلہ سازوں سے میری دست بدستہ گزارش ہے کہ یہی وقت ہے حسنی سنت ادا کرنے کا۔ آج اگر ہم اپنے اندر کے غصے، انتقام اور تعصب کو پروان چڑھائیں گے تو ہم نہ صرف اپنے بھائی کو کمزور کریں گے بلکہ اُن مسلمانی تحریکوں اورمظلوم مسلمانوں کی آوازوں کو بھی تنہا چھوڑ دیں گے جو بیرونی جارحیت اور ظلم کے سامنے کھڑی ہیں —
مزید پڑھیں: ٹی ایل پی بحران: حکومت یا سعد رضوی، ذمہ دار کون ہے؟
کشمیر و فلسطین جیسے دکھوں میں پھنسی قومیں ہماری مدد کی منتظر ہیں۔ ایک دوسرے کے قاتل بن کر ہم اُن کے لیے کیا مثال بنیں گے؟ کون اُن کا سہارا بنے گا؟
کسی بھی بحث یا مخالفت کو نفرت، نفسی مقابلے اور تشدد کی طرف نہیں پھیلأنا چاہئے۔ اختلافِ رائے ہو تو دلیل سے، مجلس سے، قانون سے حل کیا جائے — خون ریزی اور انتشار سے کسی کا فائدہ نہیں۔
آخر میں ایک سادہ سی اپیل: ہم سب مسلمان ہیں — ایک امت کے رکن۔ آئیں اپنے دین کی حقیقی روح کو زندہ کریں: رحم، رواداری، بھائی چارہ اور انصاف۔ اپنے غصے کو قابو میں رکھیں، اپنے بھائی کی عزت کو مقدم رکھیں، اور یاد رکھیں کہ کسی ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات دلا سکتا ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







