غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیش کردہ نیا فریم ورک، جسے اب “بورڈ آف پیس” کے نام سے عالمی سطح پر متعارف کروایا جا رہا ہے، اسی بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے۔
یہ منصوبہ بظاہر بحالی، استحکام اور تعمیرِ نو کی بات کرتا ہے، مگر اس کا جو ڈھانچہ سامنے آ رہا ہے وہ دراصل غزہ کے مستقبل کو بین الاقوامی نگرانی اور طاقتور ریاستوں کی سرپرستی کے تحت لانے کی کوشش معلوم ہوتا ہے۔ تین سطحی فریم ورک، بورڈ آف پیس، فلسطینی ٹیکنوکریٹس کمیٹی اور انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس، سننے میں تو غیر جانبدار لگتے ہیں، مگر سیاست میں اکثر سب سے زیادہ خطرناک فیصلے انہی “ٹیکنوکریٹک” اصطلاحات کے پردے میں کیے جاتے ہیں۔
بورڈ آف پیس کی سربراہی خود صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہونا ہی امن کے ماتھے پر سیاہ دھبہ کیا کم تھا کہ مزید اس میں امریکی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات، یعنی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور ٹرمپ کے قریبی مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور اسٹیو وِٹکوف کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
خطرہ یہی ہے کہ یہ بدنامِ زمانہ چہرے فلسطینی خودمختاری سے زیادہ عالمی طاقتوں کے مفادات کے لیے بنایا گیا منصوبہ ہیں۔ ٹرمپ کی اپنی تقاریر بھی ان شکوک کو ختم کرنے کے بجائے مزید تقویت دیتی ہیں، جہاں وہ بار بار غزہ کو “غیر مسلح” کرنے، حماس کو “ختم” کرنے اور طاقت کے ذریعے استحکام لانے کی بات کرتا ہے۔اسی طرح نیتن یاہو مسلسل اپنے بیانات میں اس بات پر زور دیتا ہے کہ غزہ میں کوئی بھی سیاسی یا عسکری طاقت باقی نہیں رہنی چاہیے جو اسرائیلی مفادات کو چیلنج کر سکے۔
اس تناظر میں اگر بورڈ آف پیس ایسے ہی فریم ورک کو آگے بڑھاتا ہے جس کا عملی نتیجہ صرف یہ نکلے کہ فلسطینی مزاحمت کو ختم کر کے مجاہدینِ حماس کا صفایا کیا جا سکے تاکہ اسرائیل کی سیکیورٹی مزید مضبوط ہو سکے، تو پھر یہ منصوبہ امن نہیں بلکہ یک طرفہ اسٹریٹجک استحکام کا منصوبہ کہلائے گا۔ جس کا خواب کبھی بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے گا بلکہ نہ صرف مزاحمت کاروں کی مزاحمت کو مزید تقویت دے گا، بلکہ مجاہدینِ حماس کو عملی اقدامات کے بے شمار جواز فراہم کر دے گا۔
ویسے تو بورڈ آف پیس کا اب تک کا نظر آنے والا فریم ورک خود بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہی مانا جائے گا۔ لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون ہو یا اقوامِ متحدہ کا چارٹر، سب عالمی طاقتوں کی لونڈیاں ہیں۔ وہ جب، جیسے، جہاں چاہیں انہیں استعمال کر لیں یا ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔ اس لیے اس تناظر میں حماس کا مؤقف سمجھنا زیادہ اہم اور ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانخہ گل پلازہ کراچی، ذمہ دار کون ہے؟
حماس قیادت کا مؤقف؛
حماس نے اس منصوبے کو نہ تو مکمل طور پر رد کیا ہے اور نہ ہی غیر مشروط طور پر قبول کیا ہے۔بلکہ اس نے واضح کیا ہے کہ جو بھی فریم ورک فلسطینی خودمختاری کو کمزور کرے گا یا فیصلوں کا اختیار بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں دے گا، وہ قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ ان کے نزدیک امریکا کی تاریخی پوزیشن غیر جانبدار ثالث کی نہیں بلکہ ایک فریق کی سرپرستی کی رہی ہے، اسی لیے امریکی قیادت میں بننے والے کسی بھی ڈھانچے پر اعتماد کرنا فطری طور پر مشکل ہے۔
البتہ فلسطینی ٹیکنوکریٹس کمیٹی کے حوالے سے حماس کا مؤقف نسبتاً مثبت اور تعمیری ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر ایک غیر جماعتی، فلسطینی قیادت پر مشتمل عبوری انتظامیہ قائم ہوتی ہے تو وہ اپنے موجودہ انتظامی ڈھانچوں کو تحلیل کرنے پر بھی تیار ہیں۔ یہ بات اس بیانیے کو بھی کمزور کرتی ہے کہ حماس ہر صورت اقتدار سے چمٹی رہنا چاہتی ہے۔ان کے لیے اصل مسئلہ اقتدار نہیں بلکہ یہ ہے کہ فیصلہ سازی کا اختیار فلسطینیوں کے ہاتھ میں رہے، نہ کہ کسی بین الاقوامی بورڈ کے۔
انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے بارے میں حماس کی تشویش بھی محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی و تکنیکی بنیادوں پر ہے۔ اگر کسی غیر ملکی فورس کی تعیناتی غزہ کے اندر ہوتی بھی ہے، تو اس کا کمانڈ اسٹرکچر کیسا ہوگا؟
کیا اس کا اصل ہدف مزاحمتی صلاحیت اور مجاہدین کی طاقت کو ختم کرنا ہے؟۔
اگر ایسا ہے تو ایسی فورس امن کی بجائے ایک نئی مزاحمتی لہر کو جنم دے گی۔ البتہ اگر کسی حد تک بین الاقوامی موجودگی صرف جنگ بندی کی نگرانی اور اسرائیلی انخلا کی ضمانت کے لیے ہو، تو اس پر مشروط غور کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
امن بورڈ میں شامل مسلم حکمرانوں کی جانب انگلیاں بھی اٹھ رہی ہیں اور نظریں بھی۔
انگلیاں اس لیے کہ بھلا ٹرمپ اور نیتن یاہو جیسے بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کی دھجیاں اڑانے والوں کی سرپرستی میں یہ کون سے چاند تارے توڑیں گے۔
اور نظریں یوں بھی ہیں کہ اگر مسلم حکمران ذرا سی اسلامی غیرت دکھا دیں تو وہ جان سکتے ہیں کہ قرآن ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ مظلوم کو غیر مسلح کر کے ظالم کو مطمئن کر دیا جائے۔ بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ ظلم کے خاتمے کے بغیر امن محض ایک عارضی وقفہ ہوتا ہے۔
اگر کسی منصوبے میں بنیادی سیاسی انصاف، زمین، محاصرے اور خودمختاری کے سوالات کو حل کیے بغیر صرف انتظامی بندوبست کھڑا کیا جا رہا ہو تو وہ انسانی تو دور، اسلامی اصولِ امن سے بھی ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا نواسہ، اسحاق ڈار کا پوتا زیربحث کیوں ہے؟
اصل سوال یہ نہیں کہ غزہ کو تعمیرِ نو کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس پر تو کوئی دو رائے نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس تعمیرِ نو کے بدلے فلسطینیوں سے ان کی سیاسی آزادی، مزاحمت کا حق اور مستقبل کے فیصلوں کا اختیار چھین لیا جائے گا؟







