یہ وہ داستان ہے جس میں “ہم پڑوسی ہیں” کی زبان اور “تم نے ہمیں دھوکا دیا” کے احساسات ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح  بدرجہ اتم موجود جیسے دریا کے دو کنارے ۔ دھوکے کا احساس اکثر تب جنم لیتا ہے جب توقع اور حقیقت کا فرق ہو جائے تاریخ نے دیکھا جب سوویت حملے سے پریشان لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی ۔کم وبیش سات دہائیوں تک پاکستان نے ان کے لیے دل اور گھر کے دروازے کھلے رکھے، مہمان نوازی کی روایت جاری رہی پاکستانی شہروں میں افغان مہاجرین نے زندگی بسائی، اسکول گئے، کاروبار کیا ۔

 اس مہمان نوازی میں صرف کاروباری مفاد نہیں بلکہ انسانی ہمدردی اور برادری کا جذبہ بھی شامل تھا۔ وقت بدل گیا، مسائل بڑھے، اور صورت حال پویل کی دیوار کی مانند شکن خُور ہو گئی۔ افغانستان اپنے محسن کے خلاف دشمن کے ہاتھوں کا مہرا بننے لگا اور محسن کی بار بار شکایت کو درخوراعتنا نہ جانا نتیجہ مہمان نوازی پر دھوکے کا احساس غالب آ گیا اور پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا سرحدی چوکیوں پر فائرنگ اور فضائی حملے ہونے لگے اور محسن کش مہمان کے تجارتی راستے بند کر دئیے گئے ۔

دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اور سرحدی تجارت شدید دباؤ میں آ گئے ۔ افغانستان کی خوراک و تعمیراتی سامان کی طلب شدید متاثر ہونے لگی۔  پاکستانی سرکار نے افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا عمل تیز کر دیا ۔ پاکستانی مہمان نوازی کا وہ سنہرا ورثہ جس پر ایک زمانے میں فخر تھا مسلسل افغانی دھوکوں سے دھندلانے لگا افغانستان کی سرزمین سے پاکستانی سرزمین پر ہونے والے عسکری حملے، اور ردعمل میں پاکستانی فوجی کارروائیاں دونوں جانب سے اعتماد کو گہرا دھچکا لگا ۔ افغانستان کی سرحدی حکمت عملی نے پاکستان کے دل کو افغانستان کیلئے سخت کر دیا۔

پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود مہمان نوازی کی مثال قائم کی مگر جب مہمان کی تعداد لاکھوں تک پہنچے، وسائل محدود ہوں، اور سلامتی کے خدشات جنم لینے لگیں تو مہمان نوازی کے جذبے پر حکمتِ عملی غالب آ جاتی ہے۔  افغانستان سے آنے والوں نے پاکستان کی مقامی معیشت، سوشل سروسز، اور معاشرتی تانے بانے میں کچھ حصہ لیا مگر اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ پاکستان نے اپنی سرحد، سلامتی اور خودمختاری چھوڑ دی ہو،  مقامی سطح پر محسوس کیا جانے لگا کہ  “ہم نے انہیں اچھی طرح ٹھہرایا مگر انہوں نے ہمیں ہمیشہ دھوکا دیا" افغانستان کی سرزمین سے پاکستان نے خود کو حملوں اور عسکری سرگرمیوں کا شکار محسوس کیا اور مہمان نوازی کرنے والے نے اپنا ردعمل شروع کیا۔

 محسن نے امید کی کہ افغان حکومت مہاجرین، عسکری سرگرمیوں اور سرحدی تحفظ کے حوالے سے مثبت رویہ اختیار کرے گی لیکن عملی سطح پر نظر آنے والے معاملات نے دوستانہ تصور کو مزید کمزور کردیا افغان حکام محسن پر انکی سرحدی خودمختاری کا احترام نہ کرنے کا الزام لگانے لگے مہمان کے روئیے نے میزبان کی مہمان نوازی کی وراثت کو گہنا دیا کیا اس مہمان نوازی اور دھوکے کی کشمکش میں کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے؟

ہاں اگر سماجی، اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں اعتماد واپس لایا سکے جیسے مہاجرین کے معاملات کا منظم حل، سرحدی تعاون، اور مشترکہ استحکام شاید تب یہ ممکن ہو جائے مہمان نوازی تب معنی رکھتی ہے جب اس میں باہم تعاون اور سالمیت ہو مہمان نوازی کی روایت کو اس طرح نبھایا جائے کہ مقامی معیشت، افرادی وسائل اور سلامتی کا توازن متاثر نہ ہو۔

افغانستان کے مہاجرین کو محض بوجھ نہیں بلکہ شراکت دار بنایا جائے دونوں ممالک مہمان نوازی کا مطلب حقِ مداخلت اور دھوکے کا مطلب دشمنی سمجھنا چھوڑ دیں ۔ سرحدی احترام، انسدادِ دہشتگردی میں باہمی تعاون، اور سہولتِ تجارت سے تعلقات کو مضبوط کیا جائے ۔ محسم اور مہمان مشترکہ انسانیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں
مگر اسکے لیے منظم حکمتِ عملی، داخلی شفافیت اور باہمی احترام ضروری ہے اگر دھوکے کے سائے مزید گہرے ہو گئے، تو مہمان نوازی کا ورثہ ہمیشہ کیلئے گہنا جائے گا۔
نوٹ: بلاگرکے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر