اس عمل کی حقیقی روح مقامی حکومتوں میں پنہاں ہے، جہاں عوام اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے براہِ راست اپنے منتخب نمائندوں سے رجوع کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان، خصوصاً پنجاب میں، بلدیاتی ادارے اکثر سیاسی ترجیحات اور انتظامی مصلحتوں کی نذر ہوتے رہے ہیں۔ نتیجتاً آئینی تقاضے، عوامی حقوق اور مقامی جمہوریت بارہا تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں۔

لاہور میں ہوم نیٹ پاکستان (HNP) اور آواز سی ڈی ایس-پی ڈی اے (AWAZCDS-PDA) کی جانب سے پنجاب میں فوری بلدیاتی انتخابات کے مطالبے نے ایک مرتبہ پھر اس بنیادی سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا آئین میں درج ذمہ داریاں بھی سیاسی سہولت کے تابع ہیں؟ اگر آئین صوبائی حکومتوں کو مقامی حکومتیں قائم کرنے کا پابند بناتا ہے تو پھر ان انتخابات میں تاخیر کی آئینی اور اخلاقی توجیہ کیا ہو سکتی ہے؟

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140A محض ایک قانونی شق نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا واضح اعلان ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مقامی حکومتیں صرف نمائشی ادارے نہ ہوں بلکہ انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی خودمختاری بھی حاصل ہو۔ مگر عملی صورتِ حال اس تصور سے مختلف رہی ہے۔ مختلف ادوار میں بلدیاتی انتخابات ہوئے بھی تو اکثر منتخب نمائندے وسائل اور اختیارات سے محروم رہے، جبکہ اصل فیصلے صوبائی حکومتوں یا بیوروکریسی کے ہاتھ میں رہے۔ اس طرزِ عمل نے بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کیا۔

یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ عوام کو درپیش بیشتر مسائل قومی یا صوبائی نوعیت کے نہیں بلکہ مقامی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ گلیوں کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، نکاسیِ آب، صاف پانی، صفائی کا نظام، پارکس، قبرستان، مقامی صحت کی سہولیات، تجاوزات اور کمیونٹی انفراسٹرکچر ایسے معاملات ہیں جن کا بہترین حل مقامی سطح پر ہی ممکن ہے۔ جب فیصلے دور دراز دفاتر میں بیٹھ کر کیے جاتے ہیں تو نہ صرف عوامی ضروریات نظرانداز ہوتی ہیں بلکہ وسائل کے ضیاع کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مضبوط مقامی حکومتیں ہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد بنتی ہیں۔ برطانیہ، جرمنی، جاپان اور اسکینڈے نیوین ممالک میں بلدیاتی ادارے شہری خدمات کی فراہمی، منصوبہ بندی اور مقامی ترقی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں شہری اپنے نمائندوں سے براہِ راست جواب طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس جہاں مقامی حکومتیں کمزور ہوں، وہاں عوام اور حکومت کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔

بلدیاتی نظام کی ایک اور اہم جہت سیاسی قیادت کی تربیت ہے۔ پاکستان کی سیاست میں کئی اہم رہنما اپنے عوامی سفر کا آغاز بلدیاتی اداروں سے کر چکے ہیں۔ یہی ادارے نوجوانوں کو قیادت کا موقع، خواتین کو سیاسی شرکت کا موقع، مزدوروں اور اقلیتوں کو نمائندگی کا موقع اور عام شہری کو فیصلہ سازی میں کردار ادا کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ اگر یہ دروازہ بند ہو جائے تو جمہوریت کا سماجی ڈھانچہ بھی کمزور ہونے لگتا ہے۔

ہوم نیٹ پاکستان اور آواز سی ڈی ایس-پی ڈی اے نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں درست طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ بلدیاتی نظام میں خواتین، نوجوانوں، مزدوروں، اقلیتوں، معذور افراد اور دیگر محروم طبقات کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ جدید جمہوریت صرف اکثریت کی حکمرانی کا نام نہیں بلکہ ہر طبقے کی مؤثر شمولیت کا تقاضا بھی کرتی ہے۔

تاہم سوال صرف انتخابات کے انعقاد کا نہیں بلکہ ان کی معنویت کا بھی ہے۔ اگر انتخابات کے بعد منتخب نمائندوں کے پاس نہ وسائل ہوں، نہ مالی خودمختاری اور نہ ہی انتظامی اختیارات، تو پھر جمہوریت محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بلدیاتی اصلاحات کو صرف انتخابی شیڈول تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اختیارات، وسائل اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم بھی عمل میں لائی جائے۔

اس تناظر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان، حکومتِ پنجاب اور تمام سیاسی جماعتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جمہوریت کا تقاضا یہی ہے کہ مقامی انتخابات مقررہ مدت کے اندر ہوں، ان میں غیر ضروری تاخیر نہ کی جائے اور انتخابی عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ اسی طرح سول سوسائٹی اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو محض سیاسی تنازع کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے عوامی حقوق اور آئینی حکمرانی کے تناظر میں اجاگر کریں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مضبوط بلدیاتی نظام صرف عوامی خدمات کی بہتری کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی ترقی کا بھی اہم ستون ہے۔ جب مقامی حکومتیں ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی خود کرتی ہیں، مقامی وسائل کا بہتر استعمال ممکن بناتی ہیں اور شہری ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کرتی ہیں تو سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور شہری معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں بھی مقامی حکومتوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔

آج پنجاب ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آئینی ذمہ داری اور سیاسی فیصلہ ایک دوسرے کے سامنے ہیں۔ اگر بلدیاتی انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہوتے ہیں تو اس کا نقصان صرف جمہوری عمل کو نہیں بلکہ عام شہری کو بھی ہوگا، جو بنیادی سہولیات، شفاف حکمرانی اور مؤثر نمائندگی کا منتظر ہے۔

جمہوریت کی کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں کہ اسمبلیاں موجود ہوں، بلکہ یہ بھی ہے کہ شہری اپنے محلے، گاؤں، قصبے اور شہر کے فیصلوں میں مؤثر آواز رکھتے ہوں۔ یہی آئین کا تقاضا ہے، یہی جمہوری روایت کا حسن ہے اور یہی ایک مضبوط، مستحکم اور عوام دوست پاکستان کی بنیاد بھی ہے۔

بلدیاتی انتخابات اب کسی سیاسی جماعت کی خواہش یا حکومتی ترجیح کا معاملہ نہیں رہے، بلکہ یہ آئین، عوام اور جمہوریت کے درمیان کیے گئے اس وعدے کی تکمیل کا وقت ہے جسے مزید مؤخر کرنا ریاستی نظام پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔

تحریر: کامران اشرف 

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر