اس وقت ملک پاکستان کی حالت یہ ہے کہ بلوچستان میں بدامنی ہے، نفرت ہے، خیبر پختونخوا میں دہشتگردی ہے، ہمسایہ ملک سے وقتاً فوقتاً دراندازی جاری ہے، صوبائی حکومت ایک ناکام حکومت کے طور پر وجود برقرار رکھے ہوئے ہے، ریاست اور حکومت میں خلش پائی جاتی ہے۔ پنجاب میں کسان لاوارث ہے، اناج کی پوری رقم نہیں مل رہی۔ پے درپے آئینی ترامیم کے بعد نظام انصاف ایک بڑا سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ مجرم محرم بن رہے ہیں اور محرم مجرم۔ پولیس چند خاندانوں وڈیروں کی ’لونڈی‘ کا کردار نبھا رہی ہے۔ 

ایسے وقت میں حافظ نعیم الرحمان اور ان کی جماعت اسلامی مینار پاکستان پر تین روزہ اجتماع کرنے جارہی ہے، اس اجتماع میں تمام مسائل پر بات کی جائے گی اور پھر نئی تحریک کا لائحہ بھی دیا جائے گا۔ ابھی تک سامنے آنے والی تفصیلات پر نظر ڈالیں تو ایجنڈا جاندار لگتا ہے۔

اس تحریک کا بنیادی نعرہ "بدل دو نظام" ہے، جو ملک میں موجود استحصالی اور فرسودہ سیاسی، معاشی، اور عدالتی نظام کی مکمل تبدیلی کا مطالبہ ہے۔ امیر جماعت اسلامی کے مطابق نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، اور وہ نوجوانوں کو ساتھ ملا کر اس تحریک کی بنیاد رکھیں گے۔ اس تحریک کے ایجنڈے میں غربت، مہنگائی، بے روزگاری، اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل کو حل کرنا شامل ہے۔ اس میں کسانوں، مزدوروں، اور نوجوانوں کے حقوق کو سرفہرست رکھا جائے گا۔

جماعت اسلامی اس تحریک کے ذریعے قوم کے سامنے تعلیم کے شعبے میں بہتری اور عدالتی نظام کی مکمل اصلاحات کا جامع ایجنڈا پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کے مطابق یہ تحریک ملک میں انقلاب برپا کرنے اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ایک عملی جدوجہد کا اعلان ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کی باتوں میں وزن ہے، ابھی تک سیاسی کردار کو دیکھا جائے تو وہ کامیاب دکھائی دیتے ہیں، کراچی کے امیر رہے تو ایک تحریک کو جنم دیا، بلدیاتی انتخاب جیت کر دکھائے، مخالف پارٹیاں دھاندلی کے باوجود جیت نہیں پائیں۔ قومی انتخابات میں اپنی جیتی ہوئی نشست واپس کردی، کردار اور گفتار میں علامہ اقبال کے ’شاہین‘ کی عملی تصویر نظر آتے ہیں۔ بنو قابل کراچی کے گلی محلوں سے اٹھا کر بلوچستان کے ضلع جعفرآباد تک پہنچا دیا۔ 20 لاکھ کے قریب نوجوان اس پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں تربیت حاصل کرکے اپنا روزگار شروع کرچکے ہیں۔ 

 جماعت اسلامی نے 14 روز تک  راولپنڈی میں دھرنا صرف اور صرف عوام کے مطالبات کیلئے دیا، اس دھرنے کی صورت میں حکومت نے آئی پی پیز سے مذاکرات کیے، معاہدے ختم کیے، معاہدے ختم ہونے کی صورت میں قومی خزانے کو 137 ارب روپے فائدہ پہنچا ۔

عالمی مسائل پر جماعت اسلامی کا موقف واضح ہے، حافظ نعیم الرحمان کی مسئلہ فلسطین اور غزہ میں جاری جنگ پر واضح اور دوٹوک موقف کی وجہ سے حکومت وہ نہیں کرپائی جو وہ چاہتی تھی، شہر شہر مارچ کیے، فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ سیلاب متاثرین ہوں یا غزہ کے بلبلاتے بچے سبھی کیلئے ’الخدمت‘ مسیحا بن کر پہنچی۔ 

مزید پڑھیں: تعلیم — سب کے لیے ایک معیار، ایک نظام

سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً حافظ نعیم الرحمان کے خلاف مہم بھی چلائی جاتی ہے، تنقید بھی کی جاتی ہے، ایسی تنقید تب بے معنی ہوجاتی جب مخالف عملاً کچھ نہ کررہا ہو۔   راولپنڈی کے 14 روزہ دھرنے کے بعد حافظ نعیم الرحمان کی مقبولیت  بڑھی ہے،مین سٹریم میڈیا،سوشل میڈیا ،عوامی حلقوں میں زیر بحث ہیں،اب وہ نوجوان بھی ان کی طرف راغب ہورہے ہیں جو ’تبدیلی‘ کے بخار میں مبتلا ہوکر بھٹک چکے تھے۔ اب وہ بھی ان کی بات سن رہے ہیں۔ مخالفین کو اسی بات کا بھی خوف کہ جب لوگ ان کی سنیں گے تو ہماری کون سنے گا۔ 

ان کو یہی خوف مارے جارہا ہے کہ جماعت اسلامی کا حافظ اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو ہمارے کپتان، ہمارے قائد اور ہمارے ’بھٹو‘ کا چہر ہ ماند پڑ جائے گا، ادھر ’جماعتیوں‘ کو خوش فہمی ہے کہ’اب حافظ کا دور ہے۔

میری طرح اور بھی بہت سارے لوگ اس جستجو میں ہیں کہ ’حافظ صاحب‘ کیا بم پھوڑنے جارہے ہیں۔