حالیہ مہینے یکے بعد دیگرے لاہور کی نجی یونیورسٹی (یونیورسٹی آف لاہور) میں ہونے والے خودکشی کے دو واقعات نے ہمارے تعلیم نظام اور نوجوان نسل پر کئی سوالات اٹھادیے ہیں۔

پاکستانی جامعات میں اب خودکشی کا لفظ چونکاتا نہیں، بلکہ خوفناک حد تک معمول بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہم اپنے طلبہ کو کس سمت لے جا رہے ہیں؟ آخر وہ خودکشی کیوں کرنے پر مجبور ہوکر رہ گئے ہیں؟

آج جب میں نے قلم اٹھایا اور سوچا کہ اس پر لکھا جائے تو مجھے سب سے پہلے اپنی ہی یونیورسٹی نظر آئی۔ میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کا طالب علم ہوں اور وہاں پر بھی گزشتہ سال سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی نے خودکشی کی۔

پولیس کی جانب سے تفتیش بھی کی گئی اور سیاسی و سماجی حلقوں میں طلباء کی خودکشیوں کو لے کر سوالات بھی اٹھائے گئے مگر نتیجہ اور خودکشی کی وجہ بس یہ ہوسکتی ہے اور وہ ہوسکتی ہے تک محدود ہوکر رہ گئی اور اس بار بھی وہی ہوا ہے۔

گزشتہ سال پنجاب یونیورسٹی ایک تعلیمی ادارے سے زیادہ پولیس چوکی کا منظر پیش کرتی رہی۔ ایک طرف طلبہ مارچ ہوئے تو دوسری طرف پولیس اور سکیورٹی گارڈز ڈنڈے اور کلاشنکوف ہاتھ میں لیے پھرتے نظر آئے۔

بحث یہ نہیں کہ قصور کس کا تھا، اصل سوال یہ ہے کہ نقصان کس کا ہوا؟جہاں ایک طرف فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کیا گیا، وہیں ایم فل کے طالب علم محمد علیم کا داخلہ صرف اس بنیاد پر منسوخ کر دیا گیا کہ اس نے سکیورٹی گارڈ سے بحث کی۔

ردِعمل میں اس طالب علم نے اپنی بی ایس کی ڈگری جلا دی،یہ احتجاج نہیں تھا، یہ ایک ٹوٹے ہوئے ذہن کی چیخ تھی۔ ایسے کئی واقعات خاموشی سے دفن ہو گئے۔

میں نے جب پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم محمد اسامہ حبیب سے اس صورتحال  کی وجہ دریافت کی تو اس کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو بچوں سے ڈیل کرنا نہیں آتا۔ اکثر وہی لوگ پڑھا رہے ہوتے ہیں جنہیں خود نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسامہ حبیب نے کہا کہ یونیورسٹی کا سرکاری نظام اس قدر پیچیدہ ہے کہ ایک چھوٹے سے مسئلے کے لیے ہفتوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو ہم گھر والوں کو بھی نہیں بتا سکتے۔ جب دو سو روپے کی چیز شیئر نہ کی جا سکے تو اندازہ لگائیں کہ ذہنی دباؤ کس حد تک ہوتا ہوگا۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف لاہور کے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے ایک طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہاں سب سے بڑا مسئلہ اٹینڈنس اور نمبر کا ہے۔ چاہے آپ جتنا بھی اچھا پیپر دے دیں، جان بوجھ کر نمبر کاٹ لیے جاتے ہیں۔

اس نے کہا کہ بعض اساتذہ خود کو بہت بڑا سمجھتے ہیں، پیپر مشکل بناتے ہیں اور پھر نمبر بھی نہیں دیتے۔ سی جی پی اے نیچے آ جاتا ہے، فیسوں کا دباؤ الگ اور نتیجہ شدید ڈپریشن کی صورت میں نکلتا ہے۔

طالب علم نے ان مسائل کا تعلق خاص طور پر میڈم افشاں علی کے مضامین سے جوڑا، اس نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر ایسی صورتحال پیدا کردیتی ہیں کہ طلباء ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

سوچا کہ جب طلباء کی رائے لے لی ہے تو کیوں ناں کسی ڈاکٹر کی بھی رائے لے لی جائے، تو اس تمام صورتحال پر گفتگو کرنے کے لیے ڈاکٹر سیدہ عروہ انوار سے رابطہ کیا، جو کہ امبر اسپتال لاہور میں فزیوتھراپسٹ و سرٹیفائیڈ سائیکو تھراپسٹ ہیں۔

انہوں نے ان مسائل کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی نظام اور امتحانی دباؤ طلبہ کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ رٹّا سسٹم، نمبر بازی، مسلسل امتحانات، والدین اور اساتذہ کی غیر حقیقی توقعات طلبہ کو اضطراب اور ڈپریشن کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔

ڈاکٹر عروہ کے بقول ڈپریشن کی ابتدائی علامات میں حد سے زیادہ خاموشی، پڑھائی سے لاتعلقی، نیند اور بھوک میں تبدیلی اور خود کو ناکام سمجھنا شامل ہے۔ وہ خبردار کرتی ہیں کہ اگر کوئی طالب علم موت یا خودکشی پر بات کرنے لگے، یا الوداعی رویہ اختیار کرے، تو یہ خطرے کی واضح علامت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ خودکشی کو حل اس لیے سمجھ لیتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کوئی ان کی بات نہیں سمجھے گا، حالانکہ یہ سوچ حقیقت نہیں بلکہ ڈپریشن کی پیداوار ہوتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف ایک یونیورسٹی، ایک استاد یا ایک طالب علم کا نہیں بلکہ یہ ہمارے پورے تعلیمی اور سماجی نظام کی ناکامی ہے۔ اس کی وجہ صرف تعلیمی نظام نہیں بلکہ والدین کی غفلت بھی ہے۔

گزشتہ دنوں جب پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کریٹرز (پی ایف یو سی) کے وفد نے یونیورسٹی آف لاہور کا دورہ کیا، یونیورسٹی کے چیئرمین اویس راؤف نے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خودکشی کرنے والا لڑکا تنہائی کا شکار تھا، اس کا کوئی دوست نہیں تھا، وہ ڈارک ویب پر مختلف گیمز اور ویڈیوز دیکھتا تھا، جس نے اسے خودکشی پر مجبور کیا۔

انہوں نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ جہاں تک بات لڑکی کی ہے وہ کسی لڑکے سے محبت کرتی تھی، مگر خاندان کے مسائل کی وجہ سے اس نے خودکشی کوشش کی کیونکہ اسے کوئی اور حل دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔

اویس رؤف نے کہا کہ اسے گھر میں چھت پر جانے کی اجازت نہیں تھی، مگر ہمیں والدین نے اس بات سے آگاہ نہیں کیا۔ ہم نے اس تمام تر صورتحال کا یہی نتیجہ نکالا ہے کہ طلباء کے لیے ویل بی انگ سینٹر قائم کیا جائے۔

یہ ساری صورتحال اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ موجودہ نوجوان نسل محض باغی یا نافرمان نہیں، بلکہ وہ ایک بالکل مختلف زاویے سے سوچنے والی نسل ہے۔ ایک ایسی نسل جو سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے اور عزت کے ساتھ سنے جانے کی خواہش رکھتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی اور سماجی نظام اب بھی اسی پرانے ڈنڈا اور خاموشی کے فلسفے پر کھڑا ہے، جہاں سوال کرنے والا طالب علم مسئلہ اور خاموش رہنے والا ’’فرمانبردار‘‘ سمجھا جاتا ہے۔

یہ ذمہ داری صرف تعلیمی اداروں کی نہیں، نہ ہی تمام بوجھ والدین پر ڈال کر ہم بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔ اساتذہ اور والدین دونوں کو مل کر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ذہنی صحت کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے۔

طالب علم کو صرف نمبرز، اٹینڈنس اور سی جی پی اے کے ترازو میں تولنا بند کرنا ہوگا کیونکہ ہر کم نمبر لینے والا طالب علم ناکام نہیں اور ہر اچھے گریڈ والا ذہنی طور پر مضبوط بھی نہیں ہوتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات میں صرف نصاب نہیں بلکہ سننے کا کلچر متعارف کروایا جائے۔ ایسے اساتذہ تیار کیے جائیں جو بچوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ انہیں سمجھ بھی سکیں اور ایسا نظام بنایا جائے جہاں طالب علم مسئلہ بیان کرے تو اسے دفتر کے چکر، تضحیک یا سزا کے بجائے حل ملے۔

اگر ایک طالب علم کو یہ یقین ہی نہ ہو کہ اس کی بات سنی جائے گی تو وہ خاموشی کو ترجیح دے گا اور یہی خاموشی رفتہ رفتہ چیخ میں بدل جاتی ہے، جو اکثر بہت دیر سے سنائی دیتی ہے۔

اگر ہم نے بروقت اس بدحواس نسل کی آواز نہ سنی، اگر ہم نے ان کے سوالوں کو بدتمیزی اور ان کے آنسوؤں کو کمزوری سمجھتے رہے، تو آنے والے دنوں میں ہمارے پاس سوال کرنے والے کم اور جنازے زیادہ ہوں گے اور اس وقت ہم صرف یہ کہتے رہ جائیں گے کہ یہ تو ایک ہونہار طالب علم تھا،مگر اس ہونہار ذہن کو جینے کی وجہ ہم کبھی نہ دے سکے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر