جسے صرف ایک ناکام فوجی بغاوت کی یاد کے طور پر نہیں بلکہ جمہوریت، قومی خودمختاری، عوامی استقامت اور ریاستی وحدت کی فتح کے استعارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال اس دن کو "یومِ جمہوریت و قومی یکجہتی" کے طور پر منایا جاتا ہے، تاکہ اُن شہریوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے جنہوں نے اپنے وطن کے جمہوری تشخص کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

اسی قومی جذبے کی عکاسی پاکستان میں بھی اس وقت دیکھنے میں آئی جب اسلام آباد میں ترکیہ کے سفارت خانے نے 15 جولائی یومِ جمہوریت و قومی یکجہتی کی دسویں برسی کے موقع پر ایک پروقار یادگاری تقریب کا اہتمام کیا۔ یہ تقریب محض ایک سفارتی روایت نہیں تھی بلکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار کے اظہار کا مؤثر مظہر بھی تھی۔ تقریب میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ پاکستان میں تعینات سفیروں، سفارتی شخصیات، ترک شہریوں اور مختلف ترک اداروں کے نمائندوں کی موجودگی نے اس تقریب کو مزید وقار بخشا۔ میزبان کی حیثیت سے پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو نے مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس دن کی تاریخی اہمیت اور پاک۔ترکیہ تعلقات کی مضبوطی کو اجاگر کیا۔

اس تقریب کی معنویت کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک نظر 15 جولائی 2016 کے ان واقعات پر بھی ڈالی جائے جنہوں نے جدید ترکیہ کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ ایک دہائی قبل اسی شب ترکیہ میں منتخب جمہوری حکومت کے خلاف فوج کے ایک گروہ نے اقتدار پر قبضے کی ناکام کوشش کی۔ استنبول اور انقرہ میں اہم سرکاری تنصیبات، پلوں اور نشریاتی اداروں پر قبضے کی کوششیں کی گئیں، پارلیمنٹ کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا اور جنگی طیارے نچلی پروازیں کرتے رہے۔ اس غیر معمولی صورتِ حال کے دوران صدر رجب طیب ایردوان نے ایک موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے عوام سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی، جس پر لاکھوں شہری جمہوری نظام کے دفاع کے لیے گھروں سے نکل آئے۔ چند گھنٹوں بعد بغاوت کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی، تاہم اس مزاحمت کی قیمت سیکڑوں قیمتی جانوں کی قربانی کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔


یہ واقعہ صرف ایک ناکام فوجی بغاوت تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے بعد ترکیہ نے ریاستی اداروں، قومی سلامتی، دفاعی صنعت، انٹیلی جنس نظام، سائبر سکیورٹی اور دفاعی خود انحصاری کے میدان میں وسیع اصلاحات کا آغاز کیا۔ 2017 کی آئینی ترامیم اور اس کے بعد نافذ ہونے والے نئے صدارتی نظام نے ترکیہ کے سیاسی ڈھانچے کو ایک نئی سمت دی۔ آج، دس برس بعد، 15 جولائی کو ترک قوم ایک ایسے دن کے طور پر یاد کرتی ہے جس نے قومی وحدت، جمہوری استحکام اور ریاستی خوداعتمادی کو مزید مضبوط کیا۔اسی تاریخی پس منظر کے باعث اسلام آباد میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریب محض ایک رسمی سفارتی اجتماع نہیں تھی بلکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اس دیرینہ رشتے کی تجدید بھی تھی، جو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے، باہمی احترام اور مشترکہ احساسات پر قائم ہے۔

اپنے خطاب میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے 15 جولائی 2016 کو ترک عوام کی جمہوریت کے دفاع کے لیے دی جانے والی تاریخی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس مشکل گھڑی میں ترکیہ کے ساتھ کھڑے ہو کر برادرانہ تعلقات کا عملی ثبوت دیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور عوامی محبت کی بنیاد پر قائم ہیں اور دونوں ممالک مستقبل میں بھی ہر آزمائش میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: انڈیا میں طلبہ کے پارلیمنٹ مارچ پر پولیس کا لاٹھی چارج؛ کیا مودی حکومت نوجوانوں کا اعتماد کھو رہی ہے؟

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیراوغلو نے 15 جولائی کو ترک قوم کے عزم، جمہوریت سے وابستگی اور قومی یکجہتی کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترک عوام نے اپنی قربانیوں سے ثابت کیا کہ جمہوری اقدار اور قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 15 جولائی 2016 کے نازک مرحلے پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اعتماد اور لازوال دوستی کی روشن مثال ہے۔


تقریب کے اختتام پر 15 جولائی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، ان کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوستی، تعاون اور باہمی احترام کا یہ رشتہ آنے والے برسوں میں مزید مستحکم ہوگا۔15 جولائی صرف ترکیہ کی تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب قومیں اپنے جمہوری اداروں، قومی وحدت اور خودمختاری کے لیے متحد ہو جائیں تو بڑے سے بڑا بحران بھی ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتا۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات بھی اسی باہمی اعتماد، احترام اور آزمودہ رفاقت کی بنیاد پر استوار ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔

تحریر: حسنین اولکھ (صحافی)

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر