جنوبی روس میں خارجہ پالیسی فورم سے جمعرات کے روز خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یورپ کی بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر شدید ردعمل دینے کا اعلان کیا۔
اے ایف پی کی تازہ رپورٹ کے مطابق صدرپوٹن کا کہنا ہے کہ روس نہ تو کمزوری دکھائے گا اور نہ ہی فیصلہ سازی میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ برتے گا۔ یوکرین میں جاری روسی فوجی کارروائی کے بعد یورپی یونین اور روس کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں یورپی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔
مزید یہ کہ حالیہ دنوں میں ڈنمارک میں ڈرون واقعات اور ایسٹونیا و پولینڈ میں روسی فضائی دخل اندازیوں کی اطلاعات نے یورپ میں یہ خدشہ بڑھا دیا ہے کہ یوکرین کی جنگ یورپی سرزمین تک پھیل سکتی ہے۔ ان خدشات کے تناظر میں یورپی ملکوں کی جانب سے دفاعی اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے۔
پوٹن نے یورپی ممالک پر الزام عائد کیا کہ وہ عسکری اخراجات میں اضافے کو جواز فراہم کرنے کیلئے ہسٹیریا پھیلا رہے ہیں۔ روس کسی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بس پرسکون ہو جائیں۔
روسی صدر نے کہا کہ روس یوکرین میں دراصل نیٹو اتحاد کے خلاف برسرپیکار ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کیا جس میں روس کو کاغذی شیر قرار دیا گیا تھا۔ پوٹن کے الفاظ میں اگر ہم پورے نیٹو بلاک سے لڑ رہے ہیں، پیش قدمی کر رہے ہیں اور پراعتماد ہیں، پھر بھی ہمیں کاغذی شیر کہا جاتا ہے تو پھر نیٹو خود کیا ہے۔
پوٹن نے یوکرین پر الزام لگایا کہ وہ زیر قبضہ زاپوریزیا جوہری بجلی گھر کے آس پاس حملے کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو اس کے جواب میں کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔ یہ جوہری بجلی گھر ایک ہفتے سے بجلی سے محروم ہے جو اب تک کا سب سے طویل تعطل ہے۔ روس اور یوکرین ایک دوسرے پر بجلی کے نظام پر حملوں کا الزام لگا رہے ہیں۔
واضع رہے کہ تاحال یورپی یونین یا نیٹو کی جانب سے پوٹن کے تازہ بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال میں مزید کشیدگی بڑھی تو یورپی دفاعی حکمت عملی میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔





