عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔
🔴 Iran has accused Ukraine of attacking an Iranian commercial vessel and killing a sailor, with Foreign Minister Abbas Araghchi describing the strike as a “blatant UN Charter violation done at Israel’s behest to drag Europe into its war”
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) July 26, 2026
🔴 Araghchi said the attack “cannot go… pic.twitter.com/VZoTixZzZj
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس اور روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ ’کییف میں موجود مفت خور‘ کے اس اقدام کا جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے بحیرۂ قزوین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کے بعد تہران میں تعینات یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر لیا۔
اتوار کی صبح وزارتِ خارجہ کے معاون وزیر اور یوریشیا امور کے ڈائریکٹر جنرل منوچہر مرادی نے یوکرینی سفارتی اہلکار کو طلب کر کے واقعے پر ایران کا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور اسے ’مجرمانہ اقدام‘ قرار دیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی ملاح ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔
ملاقات کے دوران منوچہر مرادی نے کہا کہ بحیرۂ قزوین میں ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی، جارحیت کا مظہر اور ساحلی ریاستوں کی سلامتی کے لیے واضح خطرہ ہے۔
Iran slams Ukrainian attack on commercial vessel in Caspian Sea.
— WION (@WIONews) July 26, 2026
Tehran warns Kyiv of possible retaliation.@AadhyaJunejaa has more pic.twitter.com/Ryt7Xumvew
انہوں نے کہا کہ یوکرینی حکومت اس واقعے کی ذمہ دار ہے اور اسے حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
مرادی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور اپنے شہریوں کی جان و مال پر ہونے والے حملوں کا جواب دے گا۔
ادھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ یوکرین نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اسے ایران کے لیے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایران کے خلاف یوکرین کے ’غیر دانشمندانہ اور دشمنانہ رویے‘ کا تسلسل ہے۔
وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ یہ حملہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی اور ’جارحیت‘ کے زمرے میں آتا ہے، جس کے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔






