عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کے ایما پر کیا گیا تاکہ یورپ کو اس کی جنگ میں گھسیٹا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس اور روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ ’کییف میں موجود مفت خور‘ کے اس اقدام کا جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ نے بحیرۂ قزوین میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کے بعد تہران میں تعینات یوکرین کے ناظم الامور کو طلب کر لیا۔

اتوار کی صبح وزارتِ خارجہ کے معاون وزیر اور یوریشیا امور کے ڈائریکٹر جنرل منوچہر مرادی نے یوکرینی سفارتی اہلکار کو طلب کر کے واقعے پر ایران کا شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور اسے ’مجرمانہ اقدام‘ قرار دیا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی ملاح ہلاک جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

ملاقات کے دوران منوچہر مرادی نے کہا کہ بحیرۂ قزوین میں ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی، جارحیت کا مظہر اور ساحلی ریاستوں کی سلامتی کے لیے واضح خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرینی حکومت اس واقعے کی ذمہ دار ہے اور اسے حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

مرادی نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی قومی سلامتی اور مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور اپنے شہریوں کی جان و مال پر ہونے والے حملوں کا جواب دے گا۔

ادھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ یوکرین نے ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ اسے ایران کے لیے فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال کیا جا رہا تھا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایران کے خلاف یوکرین کے ’غیر دانشمندانہ اور دشمنانہ رویے‘ کا تسلسل ہے۔

وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ یہ حملہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی اور ’جارحیت‘ کے زمرے میں آتا ہے، جس کے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔