کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہفتے کے روز تقریباً 90 منٹ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں یوکرین جنگ اور آئندہ نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اوشاکوف نے بتایا کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر لڑائی کے جلد خاتمے اور بحران کے سیاسی و سفارتی حل کے لیے تعاون کی آمادگی ظاہر کی، جب کہ روس نے اپنے بنیادی مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے تنازع کے سیاسی حل کی خواہش کا اعادہ کیا۔

دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی تصدیق کی کہ ان کی ہفتے کے روز صدر ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی، جس میں تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل محاذِ جنگ کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا حقیقی امکان موجود ہے اور اس ضمن میں امریکا کے عزم کی فیصلہ کن اہمیت ہوگی، دونوں رہنماؤں نے آئندہ ہفتے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

ادھر کریملن نے یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں پر جنگ کو طول دینے اور کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ روسی افواج مشرقی یوکرین میں مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں، تاہم یوکرین نے روس کے اہم شہر کوسٹیانتینیوکا پر قبضے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ 7 اور 8 جولائی کو انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں 32 ممالک کے سربراہانِ مملکت، جن میں صدر ٹرمپ بھی شامل ہیں، شرکت کریں گے۔