ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے ساتھ ہونے والے مذاکرات انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز رہے، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور دونوں ممالک خطے میں مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اس بات پر مکمل اتفاق پایا گیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دونوں ممالک کا مؤقف یکساں ہے اور اس حوالے سے مستقبل میں بھی مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں صرف ایران ہی نہیں بلکہ اسرائیل کی قومی سلامتی، خطے کی مجموعی صورتحال، دفاعی تعاون اور آئندہ کے مشترکہ اقدامات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جہاں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور مسلسل رابطوں پر قائم ہیں، جبکہ حالیہ ملاقات نے دونوں حکومتوں کے درمیان موجود ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کو انتہائی کامیاب قرار دیا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم اور امریکی کانگریس کے اراکین کے ساتھ ان کی ملاقات انتہائی اچھی رہی، جس میں کئی اہم علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی روابط برقرار رکھنے کا خواہاں ہے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات دونوں ممالک کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل رابطے اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ ملاقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان آمنے سامنے ہونے والی آٹھویں ملاقات تھی، جسے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: نیتن یاہو مجھے جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتا ہے، مجھے اس کی معلومات کی ضرورت نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
سرکاری ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 57 منٹ پر وائٹ ہاؤس کے ویسٹ وِنگ پہنچے، جہاں امریکی صدر نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان بند کمرہ ملاقات تقریباً 90 منٹ تک جاری رہی، جس میں اعلیٰ سطح کے حکام بھی شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ اس ملاقات کے نتائج نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی آئندہ سفارتی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں۔







