عالمی خبررساں اداروں کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ صدر پیوٹن کو سفارتی ذرائع سے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے، روس اس پیشکش کی تمام تفصیلات اور نکات کا جائزہ لے رہا ہے اور امریکی حکام سے رابطے کے ذریعے اس کی وضاحت چاہتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بیلاروس کے صدر اور پیوٹن کے قریبی اتحادی الیگزینڈر لوکاشینکو کو بھی اس مجوزہ فورم میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعے کے روز جاری بیان میں ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے پر عملدرآمد کا مرکزی ادارہ قرار دیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ بورڈ غزہ میں تنازع کے بعد امن، تعمیرِ نو، عالمی وسائل کی فراہمی اور احتسابی عمل کی نگرانی کرے گا۔ امریکا نے اس منصوبے کے تحت نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) بھی قائم کی ہے، جب کہ ایک ایگزیکٹو بورڈ اور غزہ ایگزیکٹو بورڈ بھی تشکیل دیا گیا ہے، جو انتظامی اور عملی امور میں معاونت فراہم کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے، جب کہ اس میں امریکا، یورپ اور عرب دنیا سمیت مختلف خطوں کے نمائندے شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اس فورم پر شدید تنقید کی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ڈھانچے میں فلسطینی قیادت کو تیسرے درجے تک محدود کر کے انہیں صرف بلدیاتی نوعیت کے اختیارات دیے جا رہے ہیں، جو فلسطینی سیاسی خودمختاری کو کمزور کرنے اور ایک تجارتی و نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
خیال رہے کہ روس ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطینیوں سمیت تمام فریقین کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم فروری 2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد روس کے اسرائیل سے تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اب میں صرف امن کا قائل نہیں، گرین لینڈ حاصل کرنے کا وقت آ گیا، ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب ایران اور دیگر اسرائیل مخالف قوتوں کے ساتھ اس کے روابط مضبوط ہوئے ہیں۔ روس نے مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کے تناظر میں خلیجی عرب ممالک کے ساتھ بھی قریبی تعاون بڑھایا ہے۔
صدر پیوٹن ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تنازعات کے حل کی کوششوں کی تعریف کر چکے ہیں۔ اکتوبر میں ایک بیان میں پیوٹن نے کہا تھا کہ ٹرمپ برسوں اور دہائیوں سے جاری پیچیدہ بحرانوں کو حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں اور اگر مشرقِ وسطیٰ میں ان کی کوششیں کامیاب ہوئیں تو یہ ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔
کریملن اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ پر مسلسل تنقید کرتا رہا ہے۔ مئی میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ملاقات کے دوران پیوٹن نے کہا تھا کہ غزہ پٹی مکمل معنوں میں انسانی المیے کا شکار ہے اور روس فلسطینی عوام کی مدد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہا ہے۔
ادھر یورپی ممالک میں بھی ٹرمپ کے اس منصوبے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکا نے ’بورڈ آف پیس‘ میں مستقل رکنیت کے لیے ممالک سے کم از کم ایک ارب ڈالر فیس کا مطالبہ کیا ہے، جس پر یورپی رہنماؤں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتا ہے۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا اس بورڈ میں شامل ہوگا، تاہم ایک ارب ڈالر فیس ادا نہیں کرے گا۔ پیر کی صبح تک صرف ہنگری، قازقستان اور ویتنام کے رہنماؤں نے اس دعوت کو قبول کیا تھا۔
ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے کہا کہ ان کے ملک کی امن کے لیے کوششوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور وہ اس دعوت کو اعزاز سمجھتے ہیں۔
بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی میں سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور دیگر قریبی اتحادی شامل ہوں گے، تاہم ٹونی بلیئر نے مستقل رکنیت کی فیس کے مطالبے سے خود کو الگ کر لیا ہے اور ان کے ترجمان کے مطابق وہ بورڈ کی رکنیت کے تعین میں شامل نہیں ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور یورپ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو روسی میڈیا میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ روسی ریاستی ٹی وی پر تبصرہ نگاروں نے مغربی اتحاد میں دراڑ کو ماسکو کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت ہو رہی ہے جب صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے، جس پر ڈنمارک اور یورپی اتحادیوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ یورپی ممالک نے اس معاملے پر ڈنمارک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔






