ان کے اہل خانہ نے عوام سے دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں نجی زندگی کا احترام کرنے کی درخواست کی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لنڈسے گراہم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں  ایک عظیم امریکی محب وطن اور بہترین سینیٹرز میں سے ایک  قرار دیا۔ امریکی سینیٹ میں اکثریتی رہنما جان تھون نے بھی انہیں امریکا اور آزادی پسند ممالک کے مضبوط حامی کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔

لنڈسے گراہم 2002 میں جنوبی کیرولائنا سے امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے اور بعد ازاں 2008، 2014 اور 2020 میں دوبارہ کامیاب ہوئے۔ اس سے قبل وہ 1995 سے 2003 تک امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن بھی رہے۔

اپنے سیاسی کیریئر کے دوران وہ سینیٹ کی بجٹ کمیٹی کے چیئرمین رہے، جب کہ عدلیہ، مختصات اور ماحولیات و عوامی تعمیرات سے متعلق اہم کمیٹیوں کے بھی رکن رہے۔

لنڈسے گراہم امریکی خارجہ اور دفاعی پالیسی کے سخت مؤقف رکھنے والے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بھرپور حامی تھے، ایران کے خلاف سخت پالیسی اور فوجی کارروائی کی حمایت کرتے رہے، جب کہ اسرائیل کے مضبوط حامی بھی سمجھے جاتے تھے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لنڈسے گراہم نے اسرائیل کے مشکل ترین اوقات میں اس کا ساتھ دیا۔

2016 میں گراہم نے ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے بھی انتخاب لڑا تھا اور ابتدائی مرحلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقد رہے، تاہم بعد ازاں وہ کانگریس میں ٹرمپ کے قریبی ترین اتحادیوں میں شامل ہو گئے۔

سیاست میں آنے سے قبل لنڈسے گراہم نے امریکی فضائیہ میں فوجی وکیل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ فضائیہ کے ریزرو دستوں سے بھی وابستہ رہے اور 2015 میں کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی شب ان کی رہائش گاہ پر ہنگامی طبی عملہ کارڈیک اریسٹ کی اطلاع پر پہنچا، تاہم انہیں بچایا نہ جا سکا۔

جنوبی کیرولائنا کے قانون کے مطابق ریاست کے گورنر سینیٹ میں ان کی خالی ہونے والی نشست پر آئندہ سال جنوری تک کے لیے عبوری تقرری کریں گے، جب کہ ریپبلکن پارٹی آئندہ انتخاب کے لیے نئے امیدوار کا انتخاب کرے گی۔