اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جس کے بعد 2025 میں مصر، قطر اور امریکا کی ثالثی میں مرحلہ وار جنگ بندی معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے میں متعدد عالمی رہنماؤں نے شرکت کی، تاہم جنگ بندی کے باوجود مختلف مواقع پر اس کی خلاف ورزیاں بھی سامنے آتی رہیں۔
اسی پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے عالمی ادارے کے قیام کا اعلان کیا، جسے ’بورڈ آف پیس‘ کا نام دیا گیا۔ یہ ادارہ بظاہر غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، تاہم اس کے چارٹر کے مطابق اس کا دائرہ کار صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر تنازعات کے حل، امن کے فروغ اور استحکام کے قیام تک پھیلا ہوا ہے۔
دستاویزات کے مطابق بورڈ آف پیس ایک عالمی تنظیم ہو گی جس کا مقصد دنیا بھر میں امن، استحکام، قانونی و شفاف حکمرانی کو فروغ دینا اور تنازعات یا خطرے سے دوچار علاقوں میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی قانون کے تحت امن سازی کے فرائض انجام دے گا۔
بورڈ کی سربراہی خود ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، جو چیئرمین کے ساتھ ساتھ امریکا کے پہلے نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے۔ چارٹر کے مطابق ٹرمپ کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ بورڈ کے ذیلی ادارے قائم کریں، ان میں ترمیم کریں یا انہیں ختم کر دیں۔
ایگزیکٹو بورڈ کے ارکان کا تقرر اور برطرفی بھی چیئرمین کے اختیار میں ہو گی، جب کہ بورڈ کی کسی بھی قرارداد یا ہدایت کے لیے چیئرمین کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
چارٹر میں بتایا گیا ہے کہ رکن ممالک کو امریکی صدر کی جانب سے دعوت دی جائے گی اور ہر ملک کی نمائندگی اس کا سربراہِ مملکت یا حکومت کرے گا۔ ہر رکن کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال ہو گی، تاہم وہ ممالک جو پہلے سال ایک ارب ڈالر سے زائد مالی تعاون فراہم کریں گے، ان پر مدت کی یہ شرط لاگو نہیں ہو گی۔
بورڈ کم از کم سال میں ایک مرتبہ اجلاس کرے گا، ہر رکن کو ایک ووٹ حاصل ہو گا اور فیصلوں کے لیے اکثریتی حمایت کے ساتھ چیئرمین کی منظوری ضروری ہو گی۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی وزیراعظم نے ٹرمپ کی جانب سے ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی
وائٹ ہاؤس کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ میں سات اہم شخصیات شامل ہوں گی، جن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، ان کے داماد جیرڈ کشنر، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی سرمایہ کار مارک روان، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا اور نیشنل سکیورٹی کونسل میں ٹرمپ کے قریبی معاون رابرٹ گیبریل شامل ہیں۔
بورڈ میں شمولیت کے لیے درجنوں ممالک اور عالمی رہنماؤں کو دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں، جن میں چین، انڈیا، روس، یوکرین، کینیڈا، مصر، ارجنٹائن سمیت متعدد یورپی، وسطی ایشیائی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک شامل ہیں۔
ہنگری، البانیہ، ویتنام، مراکش اور قازقستان نے آمادگی ظاہر کی ہے، جب کہ کینیڈا نے شرکت کی تصدیق تو کی مگر ایک ارب ڈالر کی مستقل رکنیت فیس ادا کرنے سے انکار کر دیا۔
دوسری جانب فرانس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس بورڈ میں شامل نہیں ہو گا، جس پر ٹرمپ نے فرانسیسی شراب پر بھاری محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی۔ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے بھی کہا ہے کہ روس کے ساتھ کسی مشترکہ کونسل میں شمولیت انتہائی مشکل ہو گی۔
چارٹر کے مطابق بورڈ آف پیس اس وقت باقاعدہ طور پر فعال ہو گا، جب کم از کم تین ریاستیں اس کے قیام کے لیے باضابطہ طور پر پابند ہو جائیں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ادارہ عالمی امن کے نام پر ایک نیا مگر متنازع اقدام ہے، کیونکہ اس میں امریکی دباؤ اور مالی تعاون کو رکنیت سے جوڑا گیا ہے، جو عالمی سیاست میں مزید کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے گئے نئے عالمی ادارے ’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان سمیت متعدد اہم مسلم ممالک نے شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرین لینڈ تنازع اور ٹیرف دھمکیاں، یورپی یونین نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا
اس بات کا اعلان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کیا گیا ہے، جس میں امریکی صدر کی جانب سے دی گئی دعوت کا خیرمقدم کیا گیا۔
مشترکہ بیان کے مطابق تمام متعلقہ ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے، جب کہ ہر ملک اپنی آئینی اور قانونی ضروریات کے مطابق شمولیتی دستاویزات پر دستخط کرے گا۔ مصر، پاکستان اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی باضابطہ طور پر بورڈ میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں جاری امن کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ممالک بورڈ آف پیس کے مشن پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ بورڈ آف پیس غزہ میں عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرے گا، جس کا مقصد مستقل جنگ بندی کا استحکام، غزہ کی تعمیرِ نو، اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کا قیام ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ منصوبہ غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے کا حصہ ہے، جس کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت کی گئی ہے، اور جس کا ہدف پورے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
لازمی پڑھیں: ایران نے جوہری سرگرمیاں دوبارہ شروع کیں تو سخت ردعمل دیں گے، صدر ٹرمپ
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا ابتدائی مقصد غزہ کی تعمیر نو بتایا گیا، تاہم اس کا چارٹر عالمی سطح پر تنازعات کے حل، امن کے فروغ اور استحکام کو یقینی بنانے پر مشتمل ہے۔ بورڈ کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے، جب کہ رکن ممالک کو امریکی صدر کی دعوت پر شامل کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور دیگر اہم مسلم ممالک کی شمولیت کے بعد ’بورڈ آف پیس‘ عالمی سفارتی سطح پر ایک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم بعض حلقے اسے امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔






