امریکی اخبار نے باخبر حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور دفاعی حکام خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں مختلف عسکری منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زیر غور تجاویز میں آبنائے ہرمز کے قریب بعض ایرانی جزائر پر ممکنہ قبضے کے آپشن کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے اب تک کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ خطے میں ایرانی فوجی سرگرمیوں اور بین الاقوامی بحری راستوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، جبکہ عسکری اور سفارتی سطح پر بھی مسلسل مشاورت جاری ہے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا اورموجودہ صورتحال میں ایران  مذاکرات کا خواہاں ہے، ایران رابطہ کرنا چاہتا ہے اور کسی نہ کسی صورت معاملہ طے کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ مستقبل میں ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کا فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا،  یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا مذاکرات امریکا کے مفاد میں ہیں یا نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایران نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں گرفتار ہونے والی ایک امریکی خاتون کو رہا کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو خیرسگالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھتا ہے۔

ایرانی تنصیبات اور پلوں پر ممکنہ حملوں کی ڈیڈ لائن سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ٹرمپ نے براہِ راست کوئی تاریخ دینے سے گریز کیا،  وہ کسی بھی فوجی یا سفارتی اقدام کے لیے پہلے سے ڈیڈ لائن مقرر کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنا ہوگا اور تہران موجودہ صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل امریکا میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے، یہ ایک سادہ اور واضح حقیقت ہے: امریکی نائب صدر

ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کے خلاف حالیہ کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں کا مقصد ان فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا تھا جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی اور بین الاقوامی بحری جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سیریک، اہواز، چابہار اور بندر عباس سمیت مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کے بعد متعلقہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں کم از کم 7 ایرانی فوجی اہلکار اور 30 عام شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔