استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق ملک بھر میں کیے گئے مربوط انسداد دہشتگردی چھاپوں کے دوران 115 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔
بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کی گئیں، جن سے ظاہر ہوا تھا کہ دہشتگرد تنظیم کے عناصر کرسمس اور نئے سال کے موقع پر ترکیہ میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
بیان کے مطابق دہشتگردوں کا ہدف خاص طور پر غیر مسلم شہری تھے اور منصوبے کے تحت اشتعال انگیز پیغامات کے ذریعے حملوں کی تیاری کی جا رہی تھی۔
حکام کے مطابق استنبول میں بیک وقت 124 مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن میں 137 مشتبہ افراد کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر تنازعات زدہ علاقوں میں موجود داعش عناصر سے رابطے میں تھے۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ بعض مشتبہ افراد کے خلاف قومی اور بین الاقوامی سطح پر وارنٹ گرفتاری بھی جاری تھے۔ کارروائی کے دوران پولیس نے پسٹل، گولہ بارود اور دہشتگرد تنظیم سے متعلق متعدد دستاویزات برآمد کیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ اب تک 115 ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ باقی مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔
یہ چھاپے ترکیہ میں داعش کے خلاف جاری سخت انسداد دہشتگردی مہم کا حصہ ہیں۔
پیر کے روز ترک خفیہ اداروں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے افغانستان پاکستان خطے میں داعش کے اندر اہم عہدے پر فائز ایک ترک شہری کو گرفتار کر کے ترکی منتقل کیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ داعش رکن افغانستان، پاکستان، ترکیہ اور یورپ میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا ہے۔
واضح رہے کہ داعش کو 2019 میں شام میں علاقائی طور پر شکست دی جا چکی ہے، تاہم یہ تنظیم اب بھی شام کے صحرائی علاقوں سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں سرگرم ہے، جبکہ وسطی اور جنوبی ایشیا میں داعش خراسان اس کی ایک اہم شاخ سمجھی جاتی ہے۔
13 دسمبر کو ترکیہ کی وزارت خارجہ نے شام میں شامی اور امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے داعش حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انقرہ خطے میں استحکام، سلامتی کے فروغ اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔






