حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کی شناخت سرکان جیجک کے نام سے ہوئی ہے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات کے بعد ایم آئی ٹی نے انکشاف کیا کہ اس کا اصل نام محمد فاتح کیلیش ہے جس نے مبینہ طور پر کاروباری نقصان اور قرضوں کے باعث اپنی شناخت تبدیل کی تھی۔

حکام کے مطابق محمد فاتح کیلیش کا رابطہ موساد کے آن لائن آپریشن سینٹر کے ایک رکن فیصل رشید سے تھا۔ ایم آئی ٹی کے مطابق فیصل رشید نے کیلیش کو ایک ایسے فلسطینی کارکن کی نگرانی اور معلومات اکٹھی کرنے کا کام سونپا تھا جو اسرائیل کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں کے خلاف سرگرم تھے۔

ایم آئی ٹی کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کو مخصوص اہداف کی نگرانی اور معلومات موساد کو فراہم کرنے کے لیے تربیت بھی دی گئی تھی۔ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔

واضع رہے کہ تاحال ترک حکومت یا متعلقہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس بارے میں مزید کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ موساد یا اسرائیلی حکام نے بھی اس گرفتاری پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

ترجمان کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مقدمے سے متعلق مزید تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔