حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کی شناخت سرکان جیجک کے نام سے ہوئی ہے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات کے بعد ایم آئی ٹی نے انکشاف کیا کہ اس کا اصل نام محمد فاتح کیلیش ہے جس نے مبینہ طور پر کاروباری نقصان اور قرضوں کے باعث اپنی شناخت تبدیل کی تھی۔
حکام کے مطابق محمد فاتح کیلیش کا رابطہ موساد کے آن لائن آپریشن سینٹر کے ایک رکن فیصل رشید سے تھا۔ ایم آئی ٹی کے مطابق فیصل رشید نے کیلیش کو ایک ایسے فلسطینی کارکن کی نگرانی اور معلومات اکٹھی کرنے کا کام سونپا تھا جو اسرائیل کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسیوں کے خلاف سرگرم تھے۔
NEW: Turkish Intelligence (MIT) arrested Serkan Çiçek (real name Muhammet Fatih Keleş) in “Metron Operation” for working with Israel s Mossad.
— Clash Report (@clashreport) October 3, 2025
Mossad officer Faysal Rasheed contacted him via WhatsApp, posing as a foreign legal aide.
He tasked Çiçek with surveilling a… pic.twitter.com/I1XvIrPTZQ
ایم آئی ٹی کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کو مخصوص اہداف کی نگرانی اور معلومات موساد کو فراہم کرنے کے لیے تربیت بھی دی گئی تھی۔ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔
واضع رہے کہ تاحال ترک حکومت یا متعلقہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس بارے میں مزید کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ موساد یا اسرائیلی حکام نے بھی اس گرفتاری پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
ترجمان کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مقدمے سے متعلق مزید تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔





