غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق زلزلہ ہفتے کے روز ییلان سے تقریباً 32 کلومیٹر دور سمندر میں آیا، جس کی گہرائی 73 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ تائیوان کے محکمہ موسمیات تائیوان کے مطابق زلزلے کی شدت فور کی سطح پر تھی، جس کا مطلب ہے کہ معمولی نوعیت کے نقصانات کا امکان موجود ہے۔

تائی پے سٹی حکومت نے بتایا کہ زلزلے کے فوراً بعد کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم چند مقامات پر گیس اور پانی کے اخراج اور بعض عمارتوں کو معمولی نقصان پہنچنے کی رپورٹس سامنے آئیں۔

تائیوان پاور کمپنی کے مطابق ییلان کے علاقے میں تین ہزار سے زائد گھروں کو کچھ دیر کے لیے بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا، جسے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔

عالمی شہرت یافتہ چِپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی نے بتایا کہ شمالی علاقے کے ہسینچو سائنس پارک میں واقع اس کی چند تنصیبات سے حفاظتی اقدامات کے تحت عملے کو عارضی طور پر باہر نکالا گیا، تاہم صورتحال معمول پر آتے ہی ملازمین واپس ڈیوٹی پر آ گئے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک دن کے دوران 5.5 سے 6.0 شدت کے آفٹر شاکس آ سکتے ہیں، اس لیے شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ ادارے کے مطابق چونکہ زلزلہ سمندر میں اور خاصی گہرائی پر آیا، اس لیے بڑے پیمانے پر نقصان کا امکان کم ہے۔

تائیوان کے صدر لائی چنگ تے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حکام صورتحال پر قابو پائے ہوئے ہیں، تاہم عوام کو ممکنہ آفٹر شاکس کے پیش نظر چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ تائیوان دو بڑی ٹیکٹانک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے، اسی وجہ سے یہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ 2016 میں جنوبی تائیوان میں آنے والے زلزلے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 1999 میں 7.3 شدت کے زلزلے میں دو ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی تھیں۔