سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وکٹوریہ ویارویل نے لکھا کہ ہم غاصب قزاقوں کے خلاف کھیل رہے ہیں، یہ صرف ایک فٹبال میچ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مقابلہ صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق مالویناس (فاک لینڈ) جزائر، ڈیاگو میراڈونا، لیونل میسی کے آخری ورلڈ کپ اور قابض قوتوں کے خلاف جدوجہد سے بھی ہے۔

نائب صدر نے مزید کہا کہ ارجنٹینا زندہ باد، ہم اپنی آخری سانس تک اپنے حق کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ارجنٹینا اور برطانیہ کے درمیان فاک لینڈ (مالویناس) جزائر کی ملکیت کا تنازع اب بھی برقرار ہے۔

یاد رہے کہ 1982 کی فاک لینڈ جنگ میں ارجنٹینا کو برطانیہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑی تھی، جس میں 649 ارجنٹائنی اور 255 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ وکٹوریہ ویارویل کے والد بھی اس جنگ میں شریک رہے تھے۔

دوسری جانب ارجنٹینا کے ہیڈ کوچ لیونل اسکالونی نے میچ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک فٹبال میچ ہے، سیاست اور تاریخ کو اس سے جوڑنا مناسب نہیں۔

ادھر ارجنٹینا کی سیکیورٹی وزیر الیخاندرا مونٹی اولیوا نے بتایا کہ اٹلانٹا میں ہونے والے سیمی فائنل کے دوران شائقین کو فاک لینڈ یا مالویناس جزائر سے متعلق جھنڈے یا دیگر علامتی اشیا اسٹیڈیم میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔