اگرچہ معاہدے کا بنیادی مقصد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور جوہری تنازع کا حل تلاش کرنا ہے، لیکن تازہ صورتحال میں لبنان سب سے حساس اور فوری مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملوں نے نہ صرف جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد نہیں ہوتا، معاہدے کے دیگر حصوں پر پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔
اسی تناظر میں اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے خوبصورت قصبے برگن اسٹاک میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود آمنے سامنے ہوں گے، جب کہ پاکستان اور قطر اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کریں گے۔
مذاکرات کہاں اور کب ہوں گے؟
یہ مذاکرات سوئٹزرلینڈ کے مشہور سیاحتی مقام برگن اسٹاک کے ایک لگژری ہوٹل کمپلیکس میں منعقد ہوں گے جو جھیل لوسرن کے اوپر واقع ہے۔
اگرچہ حالیہ مفاہمتی یادداشت پر جمعرات کو الیکٹرانک دستخط کیے جا چکے ہیں، تاہم اب اصل امتحان اس پر عمل درآمد کا ہے۔ اسی مقصد کے لیے 60 روزہ تکنیکی مذاکراتی مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
کون کون شریک ہوگا؟
ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔
دوسری جانب امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جب کہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
اس عمل میں پاکستان اور قطر کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستانی وفد میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شرکت متوقع ہے، جب کہ قطر کی نمائندگی وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کریں گے۔
پاکستان اور قطر کیوں اہم ہیں؟
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطے بحال رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دونوں ممالک نے پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے ایسے ماحول کی تشکیل میں مدد دی جس کے نتیجے میں جنگ بندی اور ابتدائی مفاہمتی یادداشت ممکن ہو سکی۔
اسی لیے دونوں ممالک اب صرف ثالث نہیں بلکہ معاہدے کے ضامن فریقوں کے طور پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
لبنان کیوں مذاکرات کے مرکز میں آ گیا؟
اگرچہ معاہدے کی بنیاد امریکا اور ایران کے تعلقات ہیں، لیکن لبنان کا مسئلہ اب سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کے مطابق تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ ہونا تھا، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ تاہم معاہدے کے چند ہی دن بعد اسرائیل نے لبنان میں متعدد فضائی حملے کیے جن میں درجنوں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ یہ حملے معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ اگر امریکا واقعی معاہدے پر عمل درآمد چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو روکنا ہوگا۔
ایران کا سخت مؤقف
سوئٹزرلینڈ روانگی سے قبل محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات میں صرف جوہری پروگرام پر بات کرنے نہیں جا رہا، سب سے پہلے امریکا کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد شروع کرنا ہوگا۔
ایران نے جن نکات پر زور دیا ہے ان میں لبنان میں مکمل جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی اور ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل شعبے پر پابندیوں میں نرمی شامل ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے بھی خبردار کیا ہے کہ تہران کسی کاغذی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔ اگر امریکا عملی اقدامات نہیں کرتا تو ایران بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔
کیا اسرائیل معاہدے کا سب سے بڑا امتحان بن گیا ہے؟
معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسرائیل اس کا براہ راست فریق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال نے ایک پیچیدہ قانونی اور سیاسی سوال پیدا کر دیا ہے۔
اگر اسرائیل حملے جاری رکھتا ہے تو کیا اسے معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا؟ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے نزدیک جواب ہاں ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ امریکا چونکہ معاہدے کا فریق ہے اور اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی بھی، اس لیے اسرائیلی کارروائیوں کی ذمہ داری بالواسطہ طور پر واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔
لبنان میں اصل تنازع کیا ہے؟
معاہدے میں لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کا بھی ذکر موجود ہے۔ تاہم لبنان کا ایک بڑا حصہ اب بھی اسرائیلی فوجی دباؤ اور حملوں کی زد میں ہے۔
رپورٹس کے مطابق مارچ کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایران اور حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ جب تک اسرائیل اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا، لبنان میں حقیقی جنگ بندی ممکن نہیں۔
جوہری پروگرام مذاکرات کا دوسرا بڑا موضوع
اگرچہ لبنان فوری مسئلہ ہے، لیکن طویل المدتی مذاکرات کا اصل مرکز ایران کا جوہری پروگرام ہوگا۔ امریکا مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا بنانے کی صلاحیت بھی نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔
تہران نے اشارہ دیا ہے کہ اگر پابندیوں میں نرمی کی جائے تو وہ اپنے جوہری پروگرام پر بعض حدود قبول کرنے پر تیار ہو سکتا ہے۔ آئندہ 60 دنوں میں انہی نکات پر تفصیلی تکنیکی مذاکرات متوقع ہیں۔
آبنائے ہرمز ایک بار پھر تنازع کا مرکز
دنیا کی تقریباً ایک تہائی سمندری تیل تجارت آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ اسی لیے اس آبی گزرگاہ کی حیثیت عالمی معیشت کے لیے شہ رگ جیسی ہے۔
ایران نے حالیہ دنوں میں اعلان کیا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز دوبارہ بند سمجھی جائے گی۔
دوسری طرف امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ بحری راستہ بدستور کھلا ہے اور درجنوں تجارتی جہاز روزانہ وہاں سے گزر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول عائد نہیں کیا جائے گا۔
عالمی معیشت پر کیا اثر پڑا؟
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث گزشتہ ہفتوں میں عالمی تیل منڈی شدید دباؤ کا شکار رہی۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی نے توانائی کی عالمی سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل ہوتی تو دنیا ایک نئے توانائی بحران اور معاشی سست روی کا سامنا کر سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے معاہدے کو جلد از جلد عملی شکل دینے میں دلچسپی دکھائی۔
Pakistan’s PM Sharif and Field Marshal Asim Munir met US Vice President JD Vance in Switzerland 🇵🇰🇺🇸
— Zard si Gana (@ZardSi) June 21, 2026
What a moment as Pakistan leads HISTORIC Iran–US Islamabad Memorandum of Understanding talks.
A picture-perfect moment! pic.twitter.com/NwxM6bJIVy
آگے کیا ہوگا؟
فی الحال تمام نظریں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں۔
اگر لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے اور اسرائیلی حملے رک جاتے ہیں تو مذاکرات دوسرے مرحلے میں داخل ہو جائیں گے، جہاں جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور اقتصادی تعاون جیسے معاملات زیر بحث آئیں گے۔
کیا لبنان امن کی کنجی بن چکا ہے؟
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات بظاہر امریکا اور ایران کے درمیان ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا سب سے اہم موضوع لبنان بنتا جا رہا ہے۔
ایران واضح کر چکا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے بغیر معاہدے کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھنا ممکن نہیں، جب کہ امریکا کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اسرائیل کو معاہدے کی روح کے مطابق عمل کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے یا نہیں۔
اسی لیے برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل، لبنان کے امن، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک ایسے موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں جس کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔





