ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ان کے بڑے صاحبزادے آیت اللہ سید مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی، جس کے بعد انہیں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ روضہ حضرت امام رضاؓ کے احاطے میں دفن کیا گیا۔
تدفین کے موقع پر مشہد کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں افراد موجود تھے، جو اپنے رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے، مختلف شہروں سے آنے والے افراد نے جنازے اور تعزیتی تقریبات میں شرکت کی اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے دعائیں کیں۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا، جس کے دوران ایران کے مختلف مذہبی اور اہم شہروں میں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ ان تقریبات میں تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد سمیت مختلف مقامات پر بڑی تعداد میں افراد شریک ہوئے۔
ایرانی خبر ایجنسیوں کے مطابق ان تقریبات میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور مختلف مذہبی مقامات پر خصوصی دعائیہ اجتماعات بھی منعقد کیے گئے۔ مشہد میں ہونے والی مرکزی تدفین کو خصوصی اہمیت حاصل رہی، کیونکہ روضہ حضرت امام رضاؓ ایران کے اہم ترین مذہبی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
اس سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی نجف سے ایران منتقل کیا گیا، جہاں سے خصوصی انتظامات کے تحت اسے مشہد پہنچایا گیا۔ ایرانی فضائیہ کے طیاروں نے جس طیارے میں جسدِ خاکی منتقل کیا جا رہا تھا، اسے حفاظتی حصار فراہم کیا اور مشہد ایئرپورٹ تک پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جسدِ خاکی کو کربلا میں حضرت امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے روضوں پر بھی لے جایا گیا، جہاں نمازِ جنازہ اور دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں عزاداروں اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: ایران کیساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہیں: امریکی حکام کا دعویٰ
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایصالِ ثواب کے لیے مزید تعزیتی اجتماعات بھی منعقد کیے جائیں گے۔ آج حرم حضرت معصومہ میں خصوصی تعزیتی اجتماع ہوگا، جس میں مذہبی و سیاسی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
ایرانی قیادت اور عوام کی جانب سے آیت اللہ علی خامنہ ای کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ ملک بھر میں سوگ اور تعزیتی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔







