غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ دشمن ایرانی عوام میں مایوسی، خوف اور اختلاف پیدا کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی طاقت عوام کی حمایت اور میدان میں حاصل کی گئی عسکری قوت کا نتیجہ ہے۔ جنگ یا مذاکرات کا فیصلہ قومی سلامتی اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، جب کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ رہبرِ انقلاب کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی دشمن کے خلاف جدوجہد میں گزاری ہے، اس لیے وہ جنگ یا دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے جنوبی علاقوں کے عوام ایران کی جان ہیں اور ان پر اپنی جان بھی قربان ہے۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ دشمن کے جرائم کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کے بقول مذاکرات ہرگز ہتھیار ڈالنے کا نام نہیں بلکہ یہ مزاحمت کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنگ اور سفارت کاری دونوں قومی مفادات کے تحفظ کے ذرائع ہیں، اس لیے فوجی طاقت اور سفارت کاری کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قومی سلامتی آبنائے ہرمز میں اس کے انتظامی اور دفاعی کردار کے تحفظ سے وابستہ ہے، جبکہ دشمن طاقت کے زور پر اس کردار کو کمزور کرنا چاہتا ہے، تاہم ایران اپنی مرضی مسلط کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائے گا۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ میدان اور سفارت کاری کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ایک اسٹریٹجک غلطی ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی مفاہمتی معاہدے پر اسی صورت عمل کیا جائے گا جب اس پر مکمل عملدرآمد ہو اور ایران کو اس سے حقیقی فائدہ حاصل ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی معاہدے سے ایران کو فائدہ نہ پہنچا تو اس کی پابندی کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم ہر وقت اپنے دفاع کے لیے تیار ہے اور قومی سلامتی و مفادات کے تحفظ کے لیے آخری حد تک ڈٹ کر کھڑا رہے گا۔ ساتھ ہی سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے بھی قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔