روسی وزارت داخلہ کے مطابق اپنے پیغام میں صدر پیوٹن نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ایران جارحیت کا سامنا کر رہا ہے، اس اعلیٰ منصب پر آپ کی ذمہ داریاں یقیناً ہمت اور عزم کا تقاضا کریں گی۔

ولادیمیر پیوٹن نے مزید کہاکہ مجھے یقین ہے کہ آپ وقار کے ساتھ اپنے والد کے کام کو جاری رکھیں گے اور سخت آزمائشوں کے دوران ایرانی قوم کو متحد رکھیں گے۔

روسی صدر نے اپنے بیان میں ایران کے لیے روس کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روس ایران کا قابلِ اعتماد شراکت دار رہے گا۔

ان کا کہنا تھاکہ میں ایران کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت اور اپنے ایرانی دوستوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتا ہوں۔ روس اسلامی جمہوریہ ایران کا قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے اور رہے گا۔

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری ایران کا آئینی فیصلہ ہے اور چین کسی بھی بہانے سے دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔

خیال رہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ایران کی تاریخ کے تیسرے سپریم لیڈر بنے ہیں۔ ان سے قبل ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً 37 سال تک اس منصب پر فائز رہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں تہران میں ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔