تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گزشتہ ہفتے آسٹریلیا میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے میچ سے قبل کھلاڑیوں نے قومی ترانہ نہیں گایا، جسے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بغاوت کی علامت کے طور پر دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، کپتان زہرہ غضنباری سمیت پانچ کھلاڑیوں نے ٹیم ہوٹل سے خفیہ طور پر نکل کر آسٹریلوی حکام کے سامنے پناہ گاہ کا دعویٰ کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ٹیم کے مزید دو ارکان نے دن کے آخر میں آسٹریلیا میں رہنے کے لیے درخواست دی۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے کہا کہ حکومت اس کے لیے کچھ عرصے سے تیاری کر رہی تھی۔ انہوں نے کہاکہ آسٹریلیائی باشندے ان بہادر خواتین کی حالت زار سے متاثر ہیں۔ وہ یہاں محفوظ ہیں اور انہیں یہاں اپنے گھر جیسا محسوس کرنا چاہیے۔
وزیر داخلہ ٹونی برک نے بتایا کہ حکومت نے کھلاڑیوں کے ساتھ خفیہ بات چیت میں دن گزارے اور انہیں گولڈ کوسٹ کے ہوٹل سے محفوظ گھر پہنچایا گیا۔ تصاویر میں کھلاڑی ایک میز کے گرد بیٹھے دکھائی دیے، جب برک نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آسٹریلیا میں رہنے کے لیے خصوصی ویزا کی کارروائی پر دستخط کیے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ بھی ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے آسٹریلوی حکومت پر زور دیا کہ وہ کھلاڑیوں کو پناہ فراہم کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کھلاڑیوں کو واپسی کے لیے ہوائی جہاز میں بٹھایا گیا تو ان کی حفاظت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی پر ایک پریزنٹر نے گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے خلاف میچ سے قبل ترانے کے دوران کھڑے نہ ہونے والی کھلاڑیوں کو جنگ کے وقت کے غدار قرار دیا تھا۔ اگرچہ بعد کے میچوں میں کھلاڑی ترانہ گاتی رہیں لیکن انسانی حقوق کے کارکنان نے خبردار کیا کہ انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔
"Australia is making a terrible humanitarian mistake by allowing the Iran National Woman’s Soccer team to be forced back to Iran, where they will most likely be killed. Don’t do it, Mr. Prime Minister, give ASYLUM. The U.S. will take them if you won’t..." - @POTUS pic.twitter.com/OTIsmVavJR
— The White House (@WhiteHouse) March 9, 2026
ایران کے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے کہا کہ ایرانی خواتین کی قومی فٹ بال ٹیم کے ارکان اسلامی جمہوریہ کے شدید دباؤ اور مسلسل خطرے میں ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا کہ آسٹریلوی حکومت ان کی حفاظت کو یقینی بنائے اور ہر ممکن مدد فراہم کرے۔ پہلوی نے خود کو ایک سیکولر ایران میں جمہوری تبدیلی کی قیادت کرنے والے شخص کے طور پر پیش کیا۔





