عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ویتنام کی وزارتِ صنعت و تجارت نے پیر کو جاری بیان میں کہا ہے کہ ملک نے ایران کی جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈی میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں یہ درخواست کی ہے۔
بیان کے مطابق وزارتِ صنعت و تجارت کے نائب وزیر نگوین ہوانگ لونگ نے یہ مطالبہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ٹوکیو میں ہونے والے توانائی سلامتی کے سربراہی اجلاس کے موقع پر کیا۔
واضح رہے کہ ویتنام میں اس وقت دو آئل ریفائنریز کام کر رہی ہیں جو ملک کی ایندھن کی تقریباً 70 فیصد ضروریات پوری کرتی ہیں، جب کہ ان ریفائنریز میں استعمال ہونے والے خام تیل کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ سے درآمد کیا جاتا ہے۔
Vietnam asks Japan, South Korea for help in crude oil access https://t.co/qzqJoYopGl
— Reuters Asia (@ReutersAsia) March 16, 2026
بیان میں کہا گیا ہے کہ نگوین ہوانگ لونگ نے جاپان کی وزارتِ اقتصادیات، تجارت اور صنعت میں بین الاقوامی امور کے نائب وزیر ماتسوئو تاکی ہیکو سے ملاقات کے دوران درخواست کی کہ جاپان اپنے بڑے تزویراتی ذخائر اور عالمی توانائی منڈی میں اہم کردار کے پیش نظر ویتنام کو خام تیل کے متبادل ذرائع تلاش کرنے اور ان تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ویتنام میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور جوہری توانائی کے شعبوں میں جاپانی سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
بیان کے مطابق نگوین ہوانگ لونگ نے جنوبی کوریا کے وزیرِ صنعت کم جنگ کوان سے ملاقات میں بھی ویتنام کو خام تیل کے نئے ذرائع تک رسائی حاصل کرنے میں تعاون کی درخواست کی۔
حکومتی کسٹم ڈیٹا کے مطابق ویتنام نے گزشتہ سال 14.2 ملین ٹن خام تیل درآمد کیا، جو اس سے ایک سال قبل کے مقابلے میں 5.3 فیصد زیادہ ہے۔





