یہ اعلان اتوار کو بونڈی بیچ پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد کیا گیا جس میں ایک یہودی تہوار کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعے میں حنوکا کے پہلے دن کی تقریب کے دوران دو مسلح افراد کی فائرنگ سے 15 افراد ہلاک ہو گئے۔ وزیرِاعظم نے دارالحکومت کینبرا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی قانون سازی ان عناصر کے خلاف ہوگی جو نفرت، تقسیم اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔

ان کے مطابق وزارتِ داخلہ کو ایسے افراد کے ویزے منسوخ یا مسترد کرنے کے نئے اختیارات دیے جائیں گے جو نفرت پھیلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک نیا ٹاسک فورس بھی قائم کیا جائے گا تاکہ تعلیمی نظام میں یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہود دشمنی کو روکا جائے، اس سے نمٹا جائے اور اس کا مؤثر جواب دیا جائے۔

نئے قوانین میں ایسے مبلغین اور رہنماؤں کے لیے سزائیں بھی شامل ہوں گی جو تشدد کو فروغ دیں، شدید نوعیت کی نفرت انگیز تقریر کو وفاقی جرم قرار دیا جائے گا اور آن لائن دھمکیوں اور ہراسانی کے مقدمات میں نفرت کو سزا بڑھانے والا عنصر بنایا جائے گا۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ ہر یہودی آسٹریلوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو محفوظ، باعزت اور اپنے ملک کے لیے قابلِ قدر محسوس کرے۔ انہوں نے کہا کہ داعش سے متاثر دہشت گردوں نے آسٹریلوی عوام کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی مگر قوم نے نفرت کے جواب میں ہمدردی اور محبت کا مظاہرہ کیا۔ 

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت یہود دشمنی سے متعلق خصوصی ایلچی جلین سیگل کی جانب سے جولائی میں پیش کی گئی رپورٹ کی سفارشات کو مکمل طور پر اپنائے گی۔ جلین سیگل نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ وقت نہ صرف یہودی برادری بلکہ دنیا بھر میں یہود دشمنی کے خلاف جدوجہد کے لیے نہایت اہم ہے۔ 

تاہم جولائی میں رپورٹ جاری ہونے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے اس پر تنقید بھی کی گئی تھی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں جامعات اور ثقافتی اداروں کی نگرانی اور فنڈنگ روکنے کی تجاویز اظہارِ رائے کی آزادی کو متاثر کر سکتی ہیں اور اس سے فلسطین کے حق میں مظاہروں کو دبانے کا خدشہ ہے۔

وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ حکومت نفرت انگیز زبان کے حوالے سے حد مقرر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد آزادیِ اظہار کے اصولوں کا فائدہ اٹھا کر ایسی زبان استعمال کرتے رہے جو غیر انسانی اور ناقابلِ قبول تھی مگر تشدد کی حد کو چھونے سے پہلے رک جاتی تھی۔ 

دوسری جانب وزیرِاعظم نے یہودی برادری کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کو بھی تسلیم کیا کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد یہود دشمنی روکنے کے لیے حکومت مزید اقدامات کر سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں مگر ساتھ ہی قوم کو متحد رکھنا بھی ان کی ذمہ داری ہے کیونکہ اس وقت عوام مزید تقسیم نہیں چاہتے۔  اسرائیل