رپورٹس کے مطابق حملے تہران، اصفہان، کرمانشاہ، تبریز، قم اور کرج میں کیے گئے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دفتر کو بھی ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
ایرانی سرکاری خبر ایجنسی اسلامک ریپبلک نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک گرلز ایلیمنٹری اسکول پر اسرائیلی حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم 51 افراد جاں بحق، جب کہ 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ حملے کے وقت 170 طالبات اسکول میں موجود تھیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے حملوں کو پیشگی دفاعی اقدام قرار دیا۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ 30 سے زائد اہداف، 50 کے قریب میزائل داغے گئے ہیں اور مغربی ایران میں وسیع کارروائی کی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف آپریشن “Epic Fury” شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ ہم اس کے میزائل نظام اور بحری طاقت کو تباہ کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ جون 2025 میں ایران کے جوہری پروگرام کو اوبلیٹیریٹ کر دیا گیا تھا۔ جس سے اس سوال نے بھی جنم لیا ہے کہ اگر پروگرام تباہ ہو چکا تھا تو آج دوبارہ حملے کیوں؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ جنگ غیر قانونی اور بلا اشتعال ہے۔ ہماری مسلح افواج جارحین کو سبق سکھائیں گی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ حمید غنبری نے الجزیرہ کو بتایا کہ حملوں کا وقت انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ یہ جوہری مذاکرات کے دوران ہوئے۔
جواب میں ایران نے اسرائیل کی طرف تقریباً 75 میزائل داغے۔ اسرائیل میں سائرن بج اٹھے، شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت دی گئی۔ ایران نے اعلان کیا کہ خطے میں موجود امریکی اڈے جائز اہداف ہیں۔
اس کے بعد ایران نے قطر کے العدید ایئربیس، کویت کا السالم ایئربیس، یو اے ای کا الظفرہ ایئربیس اور بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کو نشانہ بنایا ہے۔
دوحہ کے مضافات میں میزائل کا ملبہ گرنے کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ لوگ چیختے ہوئے محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دکھائی دیے۔ بحرین میں سائرن بجنے لگے۔
روس نے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ سے 94 افراد کو نکال لیا ہے، تاہم عملہ ابھی موجود ہے۔ اگر جوہری تنصیبات متاثر ہوئیں تو کیا اس کے نتائج صرف ایران تک محدود رہیں گے؟
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ والکر ترک نے حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا میزائل اور بم اختلافات کا حل نہیں۔ سب فریق مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔
ایران، اسرائیل، قطر، یو اے ای، کویت اور عراق نے اپنی فضائی حدود بند کردی ہیں، جس کے ساتھ ہی عالمی ایئرلائنز نے بھی اپنی پروازیں معطل کردی ہیں۔
ایران میں انٹرنیٹ شدید متاثر ہے اور اسٹاک مارکیٹ بند کردی گئی ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو احتیاط کی ہدایت دی۔
مگر اس وقت خلیجی ممالک کے لیے بڑا خطرہ ایران کا ان کے شہروں میں موجود امریکی ایئربیسز پر حملہ نہیں بلکہ اگر ایران تنگِ ہرمز بند کر دے تو؟ اگر تیل کی عالمی سپلائی رک جائے تو؟ اگر لبنان یا یمن کے حوثی بھی براہِ راست شامل ہو جائیں تو؟ یہ وہ سوالات ہیں جوکہ خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔
اور ایک بات تو طے ہے کہ اگر ابھی کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا تو یہ صرف ایران اور اسرائیل کی جنگ نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک علاقائی تصادم کی شکل اختیار کرلے گی۔
اس وقت پر ایران ہائی الرٹ پر، اسرائیل میں ہنگامی حالت، امریکا کا آپریشن جاری ہے اور خلیجی ممالک دفاعی پوزیشن میں ہیں۔






